خطبات محمود (جلد 3) — Page 577
خطبات محمود جلد سوم و تمدن کی حامل ہے اور یہ سب چیزیں اس میں پائی جاتی ہیں تو کوئی وجہ نہیں کہ وہ اس رشتہ کے متعلق نا پسندیدگی کا اظہار کرے اور کہے کہ مجھے وہ منظور نہیں کیونکہ وہ غریب ہے۔بے شک شریعت نے پسندیدگی کی شرط رکھی ہے۔بے شک شریعت نے اس امر کو جائز قرار دیا ہے کہ تم اپنی رغبت کو بھی دیکھ لو اور پھر فیصلہ کرو کہ تمہیں کہاں رشتہ منظور ہے۔یہ شرط نبی کے لئے بھی ہے اور غیر نبی کے لئے بھی۔اگر کسی کو پندرہ رشتے ملتے ہوں تو خواہ وہ کیسے ہی ادنیٰ ہوں وہ پندرہ میں سے ایک کو انتخاب کرنے کا ضرور حق رکھتا ہے اور میرے نزدیک وہ لوگ نادان ہیں جو دو سرے کو مجبور کرتے ہیں کہ ضرور فلاں رشتہ لو۔جب شریعت کا فیصلہ یہ ہے کہ فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُم مِّنَ النِّسَاء شه تو بهر حال شادی کرنے والے کی مرضی کو مقدم رکھا جائے گا اور یہ صورت اسی وقت ہو گی جب اسے نساء مل رہی ہوں گی اور جب اسے نساء مل سکتی ہوں تو ایسی صورت میں مَا طَابَ لَكُم کو ملحوظ رکھنا بھی ضروری ہوگا۔پس وہ شخص جو کسی کو مجبور کرتا ہے اور کہتا ہے کہ ضرور فلاں جگہ رشتہ کر دیا ضرور میری لڑکی لو وہ بھی نادان ہے۔جب خدا نے یہ کہہ دیا ہے کہ فَانكِحُوا مَا طَابَ لَكُم تو تم کون ہو جو مجبور کرو۔نہ لڑکے والوں کو اس بات پر مجبور کیا جا سکتا ہے کہ وہ ضرور فلاں جگہ رشتہ کریں نہ لڑکی والوں کو مجبور کیا جا سکتا ہے کہ وہ ضرور فلاں جگہ رشتہ کریں دونوں کے لئے مَا طَابَ لَكُمُ کے الفاظ ہیں۔جس طرح مردوں کو اس بات میں آزادی حاصل ہے کہ وہ وہیں رشتہ کریں جہاں وہ پسند کرتے ہیں قرآن کریم میں صاف لکھا ہے کہ جیسے مردوں کو ہم نے حقوق دیئے ہیں ویسے ہی عورتوں کو حقوق حاصل ہیں پس مَا طَابَ لَكُمُ کا حکم مرد کے لئے بھی ہے اور عورت کے لئے بھی ہے۔لیکن جہاں تک تمدنی درجہ کا سوال ہے اسے اس بات کی کوئی پرواہ نہیں ہونی چاہئے کہ لڑکی غریب ہے یا امیر۔اور اگر وہ ہمیشہ اپنے سے اوپر درجہ والے کی تلاش میں سرگردان رہتا ہے اگر وہ چاہتا ہے کہ اس کی شادی کسی امیر کے ہاں ہو کسی کھاتے پیتے اور معزز آدمی کے ہاں ہو، غریب کے ہاں اگر اس کی شادی کی تجویز کی جائے تو وہ برا مناتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ ابھی اس کے دل میں شرک باقی ہے اور وہ دنیا کا ہی پرستار ہے۔فرق صرف یہ ہو گا کہ دوسرا شخص دنیا کی زیادہ پرستش کرتا ہے اور یہ کچھ کم کرتا ہے مگر ہو گا دنیا دار ہی۔حالا نکہ انسان کو جو رشتے مل سکتے ہوں اس کا فرض ہے کہ ان میں سے ایک کو منتخب کرلے اور بجائے یہ دیکھنے کے کہ امیر کون ہے اور غریب کون وہ صرف یہ دیکھے کہ میری ضرورتیں کیا ہیں