خطبات محمود (جلد 3) — Page 44
خطبات محمود م جلد سوم اس وقت دعائیں کرنے کی نصیحت کرتا ہوں مگر خود ایسی باتوں پر تقریر کرنا شروع کر دوں جس سے نہ کوئی دین کا فائدہ نہ دنیا کا۔ دراصل رقعہ لکھنے والے نے میری اس نصیحت کو سنا نہیں جو میں نے آج ہی خطبہ جمعہ میں کی ہے یا اگر سنا ہے تو وہ مطلب نہیں سمجھا جو میں سمجھانا چاہتا تھا۔ ایسا شخص اگر خود اس نصیحت کو قابل قبول نہیں سمجھتا تو نہ قبول کرے لیکن اتنا خیال کرے کہ کہنے والا جب دوسروں کو اس پر عمل کرنے کی نصیحت کرتا اور اس کی فضیلت سے آگاہ کرتا ہے تو وہ خود کیوں نہ اس سے فائدہ اٹھائے گا۔ اگر اسے یہ خیال ہوتا تو اس قسم کا رقعہ نہ لکھتا۔ پس میں آپ پ لوگوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ اگر کسی بات ت سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہو تو اسے غور اور توجہ سے سنو تاکہ اس پر عمل کر سکو۔ خطبہ جمعہ میں مجھے یہ کہنا یاد نہیں رہا کہ آج کی رات بھی بہت مفید اور بابرکت ہے ۔ ایک محاورہ ہے کہ رسول کریم ال اس رات کو زندہ کیا کرتے تھے یعنی جاگا کرتے تھے۔ حج کے موقع پر مزدلفہ میں تو لوگ ساری رات جاگتے ہی ہیں مگر یوں بھی رسول کریم اللہ جاگا کرتے تھے پس یہ رات بھی تسبیح و تحمید اور دعاؤں کی قبولیت کے لئے خاص درجہ رکھتی ہے اس سے بھی فائدہ اٹھانا چاہئے ۔ خطبہ نکاح چونکہ اپنے اندر ایسی نصائح رکھتا ہے جو قلب کو صاف اور اعمال کو درست کرنے کے ساتھ خاص تعلق رکھتی ہیں بلکہ ان کا ساری زندگی کے ساتھ تعلق ہے اس لئے میں نے اس کام کو اس کے خلاف نہیں سمجھا جس کے کرنے کے لئے آپ لوگوں کو کہا ہے بلکہ محمد و معاون سمجھا ہے کیونکہ اس میں خدا تعالیٰ کی تحمید اور تسبیح علی الاعلان بیان کی جاتی ہے اور ایسے امور پر توجہ مبذول ہوتی ہے جو قلب اور روح کو صاف کرنے والے اور نیکی کی طرف توجہ دلانے والے ہیں۔ پس یہ بھی ایک ذکر ہے، ایک عبادت ہے کیونکہ اس میں بھی اپنے گناہوں کی معافی مانگی جاتی اور خدا تعالیٰ کی اطاعت اور فرمانبرداری کی تعلیم دی گئی ہے۔ (الفضل ۱۶۔ ستمبر ۱۹۱۹ء صفحہ ۹) اس کے بعد حضور نے مذکورہ نکاح سے متعلق فرمایا کہ :۔ قومیت کی حد بندیاں انبیاء کے ذریعہ دور کی جاتی ہیں میں نے کل حضرت مسیح موعود وعود کی بعثت