خطبات محمود (جلد 3) — Page 571
خطبات محمود 841 جلد سوم کے لحاظ سے عزت لاتے ہیں کیونکہ آج کل ساری عزت دولت سے وابستہ ہے اور جب وہ اس معیار کو کھو بیٹھیں گے جس کے ذریعہ دولت کمائی جاتی ہے تو اس کے دوسرے معنے یہ ہوں گے کہ وہ دولت مند نہیں ہوں گے کیونکہ وہ اپنی زندگی دین کے لئے وقف کر چکے ہوں گے۔بلکہ اگر انہیں وہ ذرائع معلوم بھی ہوتے جن سے دولت کمائی جاسکتی ہے تب بھی دولت کما نہ سکتے۔الا ماشاء اللہ۔کیونکہ جب اللہ تعالٰی نے یہ فرمایا ہے وَلتَكُن مِنْكُمُ أُمَّةٌ يَدْعُونَ الى الخير تم میں ہمیشہ ایک جماعت ایسی موجود ہونی چاہئے جو دعوت الی الخیر کا کام کرتی رہے تو یہ لازمی بات ہے کہ ایسا کام کرنے والی جماعت دولت نہیں کما سکے گی إِلَّا مَنْ يَفْتَح الله له اَبْوابَ رَحْمَتِهِ بِيَدِهِ الكَرِيمَةِ کیونکہ ان کے پاس وقت ہی نہیں ہو گا۔یا دوسروں کے مقابلہ میں نہایت قلیل اور تھوڑا وقت ہو گا تو چونکہ اس زمانہ میں ساری عزت، ساری ترقی اور سارا و قار دولت کے ساتھ وابستہ ہے اس لئے قدرتی طور پر لوگوں میں اس قسم کے آدمی تحقیر کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں اور لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ ایسے آدمیوں کو اپنی بیٹیاں دینا ان کی زندگیوں کو خراب کرنا ہے چنانچہ جب بھی رشتہ کا سوال آتا ہے انہیں رشتہ دینا ان کی طبائع پر گراں گزرتا ہے۔اسی طرح وہ جب کبھی ایسی مجلس میں جاتے ہیں جہاں بڑے آدمی بیٹھے ہوں تو اول تو وہ ان کی طرف رغبت ہی نہیں کرتے اور اگر کریں تو ان کی رغبت ایسی ہوتی ہے جیسے انگریز مرد اور عورت اپنے کتے سے رغبت کا اظہار کرتے ہیں اور پھر جو لوگ ان کا بظاہر ادب اور لحاظ کرتے ہیں ان کے طریق عمل سے بھی یہ بات صاف طور پر ظاہر ہوتی ہے کہ وہ تذلل اختیار کر کے یا صدقہ و خیرات کے طور پر یا پبلک سے ڈر کر ان کی طرف توجہ کرتے ہیں ورنہ ان کے دلوں میں ان کا احترام نہیں ہوتا۔رسول کریم ﷺ کے زمانہ میں یا اس سے پہلے زمانوں میں یہ بات کم تھی کیونکہ اس وقت دولت کی اتنی قدر نہ تھی جتنی آج کل ہے آج کل تمام باتوں میں اہمیت دولت کو ہی حاصل ہے پہلے زمانوں میں بھی تھی لیکن ایک حد تک۔شیخ سعدی رحمتہ اللہ علیہ کا ایک لطیفہ مشہور ہے وہ ایک دفعہ سفر کرتے ہوئے کسی شہر کی سرائے میں اترے تو انہیں معلوم ہوا کہ کسی رئیس کے ہاں بہت بڑی دعوت ہے۔اس زمانہ میں بے تکلفی لوگوں میں زیادہ پائی جاتی تھی اور پھر اس کی دعوت بھی عام تھی سرائے والے نے کہا ہم نے آج کھانا نہیں پکایا کیونکہ فلاں امیر نے دعوت کی ہے آپ بھی وہاں تشریف لے جائیں۔یہ وہاں سے اٹھے اور انہی میلے کچلیے