خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 566 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 566

خطبات محمود ۵۶۶ جلد سوم ہے، امید کیا چیز ہے، امید اپنے حال کو مستقبل میں اور آگے دیکھنے کا ہی نام ہے اور ان دونوں میں کوئی نہ کوئی نسبت قائم ہوتی ہے ورنہ یوں تو ہر ایک شخص کے دل میں امنگ ہوتی ہے مگر ایک امنگ والے کو تم پاگل کہہ دیتے ہو اور دوسرے امنگ والے کے متعلق کہتے ہو کہ وہ بڑا باہمت اور ہوشیار ہے۔ایک طالب علم کالج میں پڑھتا ہے، اسے امنگ ہوتی ہے کہ میں ایک دن بڑا فلسفی بنوں گا اور تم اسے دیکھ کر کہتے ہو، یہ طالب علم بڑا ہو نہار اور ذہین معلوم ہوتا ہے، اس کے ارادے بہت اونچے ہیں۔وہ تاریخ پڑھ رہا ہوتا ہے اور کہتا ہے میں ایک دن بڑا مورخ بنوں گا، تمہیں معلوم نہیں ہو تاکہ وہ مورخ بنے گا یا نہیں، مگر تم کہتے ہو یہ طالب بڑا ہو نہار ہے ہو سکتا ہے کہ کسی دن بڑا مورخ بن جائے۔کیونکہ تم اس کے عمل کو دیکھتے ہو اور جب تمہیں دکھائی دیتا ہے کہ وہ تاریخ اچھی طرح پڑھ رہا ہے تو تم قیاس کرتے ہو کہ اس کی یہ امنگ بھی درست ہے اور ہو سکتا ہے کہ وہ ایک دن مورخ بن جائے حالانکہ اس کی امنگ اور عمل میں اس وقت بہت بڑا فرق ہوتا ہے۔مگر چونکہ وہ امنگ اس کے عمل کے مطابق ہوتی ہے اس لئے گو اس کی امنگ تو مستقبل کے متعلق ہے تو ایسی چیز کے متعلق جس کا وجود ابھی ظاہر نہیں مگر چونکہ وہ اسی جہت کی طرف جا رہا ہے جس جہت کی طرف اس کا عمل جا رہا ہے اس لئے تم کہتے ہو یہ بڑا ہو نہار اور ہوشیار ہے۔اسی طرح ایک اور طالب علم کالج میں حساب پڑھتا ہے اور کہتا ہے میں ایک دن بڑا مندس بنوں گا۔تم پر وفیسروں کے ساتھ اس کے تعلقات کو دیکھتے ہو ، تم اس کی اطاعت اور فرمانبرداری کی روح کو دیکھتے ہو، تم اس محبت کو دیکھتے ہو جو اسے حساب سے ہوتی ہے اور تم ان تمام باتوں کو دیکھ کر کہتے ہو یہ طالب علم بڑا ہو نہار ہے واقعی کسی دن مہندس ہو جائے گا۔ایک شخص فقہ کی کتابیں پڑھ رہا ہوتا ہے، ان کے مطالعہ میں مصروف ہوتا ہے استاد کی باتوں پر غور کرتا ہے فقہ کے متعلق مختلف نوٹ لکھتا رہتا ہے اور کہتا ہے میرا ارادہ کسی دن بہت بڑا قیمہ بننے کا ہے تم ایسے شخص کو پاگل نہیں کہتے بلکہ تم کہتے ہو یہ شخص بڑا ہو شیار اور ہونہار ہے اس لئے کہ وہ قدم اسی طرف اٹھا رہا ہے جس طرف اس کی منزل ہے اور کو نظر اس کی آگے کی طرف ہے اور نظر ہمیشہ آگے ہی ہوتی ہے) مگر چونکہ اس کا قدم اسی طرف اٹھ رہا ہے جس طرف اس نے جاتا ہے اس لئے تم کہتے ہو یہ ٹھیک کہہ رہا ہے حالانکہ اس کے موجودہ مقام اور اس مقام میں جہاں وہ پہنچنے کا ارادہ رکھتا ہے بہت بڑا فرق ہے۔اس کے مقابلہ میں ایک اور شخص ہل چلا رہا