خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 557 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 557

خطبات محمود ۵۵۷ دفعہ ایک انسان کو غلامی کا طوق پہنانا ان کے مد نظر ہوتا ہے اور بعض دفعہ اپنے ماں باپ یا دوسرے عزیزوں اور رشتہ داروں کا بغض نکالنا ان کا منشاء ہوتا ہے۔جو شخص اپنے دل میں اس قسم کے ارادے رکھ کر نکاح کی مجلس میں حاضر ہوتا ہے وہ کب سچے دل سے نحمدُ ، کہہ سکتا ہے۔وہ تو اپنا بغض نکالنا چاہتا ہے، وہ تو گھروں کے امن کو برباد کرنے کا ارادہ کر چکا ہوتا ہے، وہ تو اپنے پرانے شکوے کو ناقابل معافی سمجھ کر شریعت کے احکام کو رد کرنے کے لئے تیار ہو کر آتا ہے اور سمجھتا ہے کہ جو شکوے میرے دل میں ہیں اسے اب کوئی معافی مٹا نہیں سکتی۔ایسے خیالات کے ہوتے ہوئے وہ کس طرح حمد کر سکتا ہے یا اگر وہ نکاح کے ذریعہ کسی کی گردن میں غلامی کا طوق ڈالنے کا ارادہ کرتا ہے اور اپنی بیوی کو اپنا ہمراز اور ہم سفر بنانے کی بجائے اسے ایک نوکر کی حیثیت سے لانے کے لئے نکاح کرتا ہے تو وہ کس طرح حمد کر سکتا ہے۔اگر وہ حمد کر سکتا ہے تو وہ ڈا کو بھی الحمد للہ کہہ سکتا ہے جو کسی کو مار کر اس کی جیب میں سے دو چار روپے نکال لیتا ہے، اگر وہ حمد کر سکتا ہے تو وہ چور بھی الحمد للہ کہہ سکتا ہے جو کسی کے مکان میں سیندھ لگا کر اس کا ٹرنک اٹھائے جائے اور راستہ میں کہتا چلا جائے کہ الحمد للہ میں چوری میں کامیاب و گیا۔اگر ان خیالات کے ساتھ نکاح میں شامل ہونے والا نحمدُ ، کہہ سکتا ہے تو وہ ظالم اور جابر بادشاہ جو لاکھوں اور کروڑوں لوگوں کو تہ تیغ کر کے ہزاروں اور لاکھوں گھرانوں کو برباد کر دیتا ہے، جو ملکوں کے ملک تباہ کر دیتا ہے، جو لوگوں کی لاشوں کو روند کر فخر محسوس کرتا ہے وہ بھی کہہ سکتا ہے الحمد للہ میں نے ایک لاکھ آدمی مروا ڈالے، میں نے ایک لاکھ عورتوں کو بیوہ بنا دیا، میں نے چار لاکھ بچوں کو یتیم بنا دیا اگر ایسا شخص الحمد للہ کے تو اس طرح الحمد للہ کہنے والے پر لوگ لعنت بھیجیں گے۔اور اس کی حمد کو عجیب سمجھیں گے۔وہ کہیں گے اسے تو چاہئے تھا کہ استغفراللہ کہتا مگر وہ کہ الحمد للہ رہا ہے۔تو آیات نکاح کو اَلْحَمْدُ لِلهِ نَحْمَدُ ؟ سے شروع کر کے رسول کریم ﷺ نے ہمیں یہ نصیحت فرمائی ہے کہ ہمارے نکاح حمد پر مبنی ہونے چاہئیں اور اگر انسان اس کی نیت کرلے تو اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنی نیت کو پورا کرنے کی توفیق بھی مل جاتی ہے۔نہ کرے تو توفیق نہیں ملتی۔نیت کی مثال در حقیقت ایسی ہی ہے جیسے انسان کسی جہت کو اپنا منہ کرلیتا ہے۔اگر کسی نے مشرق کی طرف منہ کر لیا ہو تو وہ مشرق کی طرف چلتا چلا جائے گا۔مغرب کی طرف منہ کر لیا ہو تو مغرب کی طرف چلتا چلا جائے گا۔گویا جس چیز کی نیت ہوگی ویسے ہی عمل کی اسے توفیق حاصل ہوگی اس لئے رسول کریم اے نے