خطبات محمود (جلد 3) — Page 555
بیاد موم ۵۵۵ ۱۲۳ اعمال نیتوں کے تابع ہوتے ہیں (فرموده ۲ ستمبر ۱۹۴۲ء) ۲ ستمبر ۱۹۴۲ء بعد نماز ظہر حضرت مصلح موعود نے حضرت مولانا سید محمد سرور شاہ صاحب کی بیٹی ناصرہ بیگم صاحبہ کا نکاح ایک ہزار روپیہ مہر پر مکرم عبدالرحیم صاحب ولد میاں عبد اللہ خان صاحب افغان کے ساتھ اور محترم ماسٹر احمد حسین صاحب فرید آباد مرحوم کی بیٹی حمیدہ بیگم صاحبہ کا نکاح مکرم سید نذیر احمد صاحب ابن سید محمد صاحب مرحوم امرتسر کے ساتھ سات سو روپیہ مہر پر پڑھا۔اے خطبہ مسنونہ کی تلاوت کے بعد حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے فرمایا : نکاح کے متعلق رسول کریم ﷺ نے جن کلمات سے ابتداء فرمائی ہے وہ کلمات حمد ہیں۔فرماتے ہیں الْحَمدُ لِلَّهِ نَحْمَدُ : - سے سب تعریفیں اللہ ہی کی ہیں اور ہم اسی کے بتائے ہوئے طریقوں کے مطابق اس کی تعریف کرتے ہیں یا یہ کہ سب تعریفیں اللہ ہی کی ہیں اور ہم اس کی ان صفات کے ظہور کی وجہ سے جو صفات حمدیہ ہیں اور جن سے ہم نے بھی حصہ پایا ہے ان لوگوں میں سے ہیں جو خدا تعالیٰ کی حمد کرتے ہیں گویا الحمد للہ نے اللہ تعالیٰ کی صفات کو علمی رنگ میں بیان فرمایا ہے مگر نحمدہ نے ان کا عملی اظہار کیا ہے اور ہم ان صفات کے ظہور کو اپنے نفس میں بھی دیکھ چکے ہیں۔اور اپنے نفس میں ان صفات کے ظہور کو دیکھنے کے بعد اس امر کا اقرار کرنے سے نہیں رہ سکتے کہ ہم بھی اس کی تعریف کرنے پر مجبور ہیں اور ہم پر اس کی تعریف واجب ہے۔