خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 546 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 546

خطبات ۵۴۶ جلد سوم نہیں کرتے ان کا الگ کمرہ ہے جس میں اب وہ تصنیف کا کام کرتے ہیں نوجوانوں کو ان سے سبق حاصل کرنا چاہیئے۔پھر میں نے اس لئے بھی ذکر کیا ہے کہ جب کسی انسان کی خدمات اور اخلاص کے متعلق واقفیت ہو تو اس کے لئے دعا کی تحریک ہوتی ہے۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے لڑکے کی مالی حالت ان جیسی نہیں ہے۔لیکن انہوں نے محض اس لئے کہ لڑکی اس خاندان میں جاکر تبلیغ احمدیت کرے یہ رشتہ کیا ہے۔احباب دعا کریں کہ سیٹھ صاحب نے جس خواہش کے پیش نظر یہ رشتہ کیا ہے خدا تعالی اسے پورا کرے اور اس خاندان میں احمدیت پھیلائے۔اس میں شبہ نہیں کہ اس قوم نے جس کو دین سمجھا اس کے لئے بڑی بڑی قربانیاں کی ہیں۔مالی قربانی کرنے میں یہ لوگ خوجے، میمن اور بو ہرے بہت بڑھے ہوئے ہیں اور خدا تعالٰی نے دنیوی لحاظ سے انہیں برکت بھی دی ہے۔یہ لوگ ظاہر میں جسے دین سمجھتے ہیں خواہ حقیقت میں وہ غلط ہی ہو اس کے لئے انہوں نے بڑی بڑی قربانیاں کی ہیں۔ہماری جماعت میں سے جو لوگ وصیت کرتے ہیں وہ دسواں حصہ دیتے ہیں اور جماعت کے مقابلہ میں ایسے لوگوں کی تعداد بہت کم ہے لیکن ہر خوجہ اپنی آمدنی کا دسواں حصہ دیتا ہے۔پچھلے زمانہ میں تو ان میں اتنا غلو پایا جاتا تھا کہ ایک آغا خان تھے (یہ خطاب ہے نام نہیں) ان کا حکم تھا کہ اگر مقررہ رقم کی ادائیگی کے وقت تم سمندر میں ہو تو سمندر میں ہی گرادو ہمیں پہنچ جائے گی۔دراصل یہ ایک ڈھنگ تھا باقاعدہ ادائیگی کے لئے پابند بنانے کا اگر پانچ فیصدی رقم سمندر میں گرا بھی دی جاتی تو ۹۵ فیصدی با قاعدہ پہنچ جاتی۔وہ لوگ اسی طرح کرتے اگر سمندر میں جاتے ہوئے وقت آجاتا تو سمندر میں پھینک دیتے۔پس ان قوموں نے جسے دین سمجھا اس کے لئے بڑی قربانی کی ان میں اگر احمدیت پھیل جائے تو اس کا بہت اچھا اثر ہندوستان میں ہو گا۔سیٹھ صاحب کی کتابیں دور دور اثر کرتی ہیں ان کے لٹریچر کے ذریعہ ہی ایک بڑے آدمی کی بیوی احمدی ہوئی۔میں ان صاحب کا نام نہیں لیتا بہت بڑے آدمی ہیں بڑے بڑے افسروں اور گورنروں کی پارٹیوں میں جاتے ہیں اور وہ ان کے گھر پر آتے ہیں ان کی بیوی نے سیٹھ صاحب کی کسی کتاب میں پردہ کے متعلق پڑھا تو پردہ کرنے لگ گئی اور پارٹیوں میں جانا چھوڑ دیا۔اس پر سارے گھر والے اسے پاگل کہنے لگ گئے اس نے مجھے لکھا میں حیران ہوں کہ کیا کروں۔میں