خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 541 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 541

خطبات محمود ۵۴۱ جلد سوم ہوتے تو اس وقت تک بہت بڑا کام ہو چکا ہوتا۔مدراس وغیرہ کی طرح جماعتیں کو ابھی چھوٹی چھوٹی ہیں مگر ان کے لٹریچر کی وجہ سے پیدا ہوئی ہیں۔وہ عام اخبارات میں اشتہار دیتے رہتے ہیں کہ ہمارے پاس یہ کتابیں ہیں اگر کوئی مول لینا چاہے تو قیمتا لے لے اور اگر کوئی مفت لینا چاہے تو مفت منگالے اس طرح لوگ ان سے کتابیں منگاتے اور پڑھتے ہیں۔پھریوں بھی تبلیغ میں اس قسم کا جوش پایا جاتا ہے کہ وہ دیوانگی جو ایمان اور اخلاص ایک مومن میں پیدا کرنا چاہتا ہے ان میں پائی جاتی ہے آگے اولاد کے متعلق بھی ان کی یہی خواہش ہے کہ وہ تبلیغ میں مصروف رہے۔انہوں نے اپنے بڑے بیٹے سیٹھ علی محمد صاحب کو ولایت بھیجوایا ان کے واپس آنے پر یہی خواہش ظاہر کی کہ دین کی خدمت کرے۔چھوٹے لڑکے کے متعلق بھی ان کی یہی خواہش ہے کہ دین کا خادم بنے۔وہ مجھ سے جب بھی اپنی اولاد کے لئے دعا کی خواہش کرتے ہیں تو یہی کہتے ہیں کہ دعا کریں میری اولاد دین کی خادم ہو۔یہی شادی جس کا میں خطبہ پڑھ رہا ہوں اس میں بھی یہی خواہش کام کر رہی ہے۔سیٹھ صاحب خود خدا کے فضل سے زیادہ آسودہ حال ہیں لڑکا ایسا نہیں ہے مگر سیٹھ صاحب کی خواہش ہے کہ چونکہ اس خاندان میں احمدیت نہیں اس لئے جب لڑکی جائے گی اور انہیں تبلیغ کرے گی تو وہ لوگ بھی احمدی ہو جائیں گے۔سیٹھ صاحب کے چھوٹے بھائی خان بہادر احمد صاحب چھوٹے رہ گئے تھے جب ان کے والد فوت ہوئے سیٹھ عبد اللہ بھائی کی یہ بھی نیکی ہے کہ انہوں نے چھوٹے بھائی کو پالا اور اپنی کوئی الگ جائداد نہ بنائی بلکہ بھائی کے ساتھ مشترکہ ہی رکھی۔وہ سیٹھ صاحب کے منجھلے بھائی ہیں، اپنے کاروبار میں بہت ہوشیار ہیں، اتنے ہو شیار کہ سیٹھ صاحب کو بھی پیچھے چھوڑ گئے ہیں۔وہ بہت زیادہ کما سکتے ہیں کماتے رہے ہیں اور کماتے ہیں۔مگر باوجود اس کے کہ وہ مالی لحاظ سے، رسوخ کے لحاظ سے ، حکام سے میل جول کے لحاظ سے اور پبلک کے ساتھ تعلقات کے لحاظ سے بہت زیادہ بڑھے ہوئے ہیں ان پر سیٹھ صاحب کے سلوک کا ایسا اثر ہے کہ جس طرح بہت نیک بیٹا اپنے باپ کا ادب کرتا ہے اسی طرح وہ سیٹھ صاحب کا ادب کرتے ہیں۔ان کے متعلق بھی سیٹھ صاحب کی یہی خواہش ہے کہ دعا کریں احمدی ہو جا ئیں۔بلکہ جب میں حیدر آباد گیا تو جس وقت دونوں بھائی میرے سامنے اکٹھے ہوتے انہیں سیٹھ صاحب یہی کہتے احمد بھائی بہت دنیا کمائی۔اب احمدی ہو جاؤ۔تو تبلیغ کا ان میں وہ جوش پایا جاتا