خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 513 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 513

خطبات محمود ۵۱۳ جلد سوم رسول کریم ﷺ وفات پاگئے اور حضرت ابو بکر رینالہ خلیفہ ہوئے، پھر حضرت ابو بکر نے وفات پائی اور حضرت عمر خلیفہ ہوئے، ان کی خلافت پر بھی کئی سال گزر گئے تو ایک حج پر حضرت عمر عبداللہ گئے۔اب وہ زمانہ نہیں تھا جبکہ اونٹ چرانے والے عرب بدوی سمجھے جاتے ہوں بلکہ وہ زمانہ تھا جبکہ قیصر و کسری کے ایلچی ان کے آگے ہاتھ جوڑ کر منتیں کرتے اور کہتے کہ ہمیں معاف کر دیا جائے۔پس آج عرب کے رؤوسا کی کیا حیثیت تھی بڑے بڑے بادشاہ ان کے قدموں میں بیٹھنے پر فخر کرتے تھے اور آج عمرہ کی حیثیت بھی معمولی نہ تھی بلکہ دنیا کے ایک زبر دست بادشاہ کی سی تھی۔چاروں طرف سے وفد آرہے تھے اور اپنی ضرورتیں آپ کی خدمت میں پیش کر رہے تھے۔مکہ کے وہ بڑے بڑے خاندان جو آخر دم تک رسول کریم سے لڑتے رہے اور جنہیں رسول کریم ﷺ نے لَا تَشْرِيبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ کیا تھا وہ بھی آج آئے ہوئے تھے اور حضرت عمر بنی اہلیہ سے ملنے کے خواہش مند تھے کیونکہ آج عمر سے ملنا کوئی معمولی بات نہیں تھی بلکہ دنیا کی سب سے بڑی بات سمجھی جاتی تھی۔چنانچہ وہ عرب کے رؤوسا آئے اور حضرت عمر بنیں چین کے پاس بیٹھ گئے اتنے میں ایک غریب مسلمان جس کے تن پر پورے کپڑے بھی نہ تھے آیا اور اس نے کہا السلام علیکم یا امیر المومنین۔آپ نے فرمایا وعلیکم السلام۔پھر آپ نے پاس بیٹھے ہوئے رؤساء سے فرمایا ذرا ان کے لئے جگہ چھوڑ دینا۔چنانچہ وہ پیچھے ہٹ گئے اور اس صحابی کو آپ نے دائیں طرف بٹھا لیا۔وہ بیٹھے ہی تھے کہ مکہ کا ایک اور غریب صحابی جو کسی زمانہ میں غلام تھا آیا اور اس نے کہا السلام علیکم یا امیر المومنین! آپ نے فرمایا وعلیکم السلام اور ان رؤساء سے فرمایا ذرا پیچھے ہٹ جاؤ اور ان کے لئے جگہ خالی کردو۔وہ پیچھے ہٹ گئے اور اس صحابی کو بھی حضرت عمر نے اپنے قریب بٹھا لیا۔اسی طرح صحابی کے بعد صحابی آتا چلا گیا۔وہی صحابی جن کو مکہ کے رؤوساء سخت تنگ کیا کرتے تھے ، ان میں وہ بھی تھے جن کو وہ پتھروں پر گھسیٹا کرتے تھے، ان میں وہ بھی تھے جن کے سروں پر وہ جوتیاں مارا کرتے تھے ، ان میں وہ بھی تھے جن کے ناک میں آگ کا دھواں پہنچایا جاتا اور کہا جاتا کہ لا الہ الا الله کا انکار کرو گے تو تمہیں چھوڑ دیں گے ورنہ نہیں اور ان میں وہ بھی تھے جن کی آنکھیں انہوں نے نکالی تھیں۔غرض ایک کے بعد دوسرا اور دوسرے کے بعد تیسرا صحابی آیا اور حضرت عمر جی اللہ ان کو اپنے پاس بٹھاتے چلے گئے اور رؤساء سے یہی کہتے چلے گئے کہ ذرا پیچھے ہٹ جاؤ۔یہاں تک کہ دائیں صف صحابہ سے بھر گئی پھر بائیں صف بھرنی شروع ہوئی وہ بھی پڑ ہو گئی اور