خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 510 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 510

خطبات محمود ۵۱۰۰ جلد سوم 1 کیفیت یہ تھی کہ جب آپ کے چچا کے گھر میں کھانا تقسیم ہوتا تو تاریخیں بتاتی ہیں کہ آپ کبھی بڑھ کر اپنی چچی سے کھانا نہیں مانگا کرتے تھے بلکہ خاموشی سے ایک کونہ میں کھڑے ہو جاتے۔ دوسرے بچے شور مچاتے اور اچھل اچھل کر اپنی والدہ سے چیزیں لیتے مگر آپ ایک گوشہ میں خاموشی کے ساتھ کھڑے رہتے۔ ہے گویا سمجھتے میرا اس گھر میں کیا حق ہے اگر یہ لوگ مجھے کچھ کھلاتے پلاتے ہیں تو در حقیقت مجھ پر احسان کرتے ہیں ورنہ میرا حق نہیں کہ میں ان سے کچھ مانگ سکوں۔ غرض آپ نے اپنے بچپن کا زمانہ انتہائی تکلیف دہ حالات میں گزارا اور پھر بڑے ہوئے تو مکہ والوں نے آ۔ آپ کو اپنے مظالم کا تختہ ' مظالم کا تختہ مشق بنالیا۔ لیکن پھر ایک دن آیا جب کہ وہی جو اپنے آپ کو لاوارث سمجھتا تھا، جو اپنے چا کے گھر میں بھی اپنا کوئی حق نہیں سمجھتا اور جسے مکہ والوں نے بھی انتہائی رکھ دیا تھا مکہ میں فاتحانہ طور پر داخل ہوا اور اس نے قریش سے مخاطب ہو کر کہا کہ بتاؤ اب تمہارے ساتھ کیا سلوک کیا جائے؟ انہوں نے کہا آپ ہم سے وہی سلوک کریں جو یوسف نے اپنے بھائیوں کے ساتھ کیا تھا تب آپ نے فرمایا لَا تَشْرِيبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ - لله جو جاؤ آج تم پر کوئی گرفت نہیں میں نے تمہیں معاف کر دیا ۔ حالانکہ مکہ والوں نے آپ سے سلوک کیا تھا وہ ایسا ظالمانہ تھا کہ آج بھی تاریخ میں ان واقعات کو پڑھ کر بدن کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ لیکن ظاہر ہے کہ لا تَثْرِيبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ کے معنے یہ نہیں ہوتے کہ وہ مقام حاصل ہو گیا جو ابتدائی زمانہ میں ایمان لانے والوں کو حاصل تھا۔ لَا تُشْرِيبَ عَلَيْكُمُ الیوم کے صرف اتنے معنے تھے کہ رسول کریم اللہ نے انہیں معاف کر دیا ۔ ورنہ جو مقام ابتدائی زمانہ میں ایمان لانے والوں کو حاصل تھا وہ مکہ والوں کو حاصل نہ ہوا۔ مکہ والوں کی تو یہ کیفیت تھی کہ جب رسول کریم ﷺ پر وحی نازل ہوئی کہ جا اور لوگوں کو خدائی عذاب سے ہو شیار کر تو رسول کریم ال نے تمام لوگوں کو جمع کیا اور ان سے فرمایا کہ مجھے خدا نے تمہاری ہدایت کے لئے بھیجا ہے اگر تم خدائی عذاب سے بچنا چاہتے ہو تو میری آواز سنو اور خدائے واحد کے پرستار بن جاؤ۔ اس پر تمام لوگ آپ کو پاگل اور جھوٹا کہتے ہوئے منتشر ہو گئے ہے اور انہوں نے آپ کی بات کی طرف کوئی توجہ نہ کی۔ اس کے مقابلہ میں حضرت ابو بکر کی یہ حالت تھی کہ جب رسول کریم ﷺ نے دعوی نبوت کیا تو اس وقت وہ تجارت پر باہر کسی گاؤں میں گئے ہوئے تھے ۔ جب آپ مکہ میں واپس آئے اور دوپہر کے وقت سانس