خطبات محمود (جلد 3) — Page 503
خطبات محمود ۵۰۳ جلد سوم ہے اس سے سے یہ یہ اندازہ اندازہ تو تو کیا جاسکتا ہے کہ ہم اس حصہ کے ، پورا پورا کرنے کرنے سے سے بگڑے جڑے ہیں یا اچھے ہوئے ہیں اور پھر باقی حصے پر عمل نہیں کرتے تو اس صورت میں ہم خدا تعالیٰ کے سامنے زیادہ پر مجرم قرار پائیں گے اور اللہ تعالی ہمیں کہہ سکتا ہے کہ جب تم لوگوں نے بعض حصوں پر عمل کر کے میرے احکام کا بیٹھا اور پھل دار ہو نا دیکھ لیا تھا تو پھر کیوں تم نے ان تمام احکام پر عمل نہ کیا۔ تو آدمی بهر حال کسی نہ کسی قید میں ہو گا خواہ وہ شرعی قیود کو اپنے اوپر وارد کرے یا خواہ اپنی مرضی و سے رسم و رواج کی پابندیوں میں اپنے آپ کو جکڑ لے مگر وہ ضرور کسی نہ کسی قید میں ہوگا اور کسی قوم میں بھی اپنے کسی عزیز کی نسبت "مادر پدر آزاد" والی آزادی کو اچھا قرار نہیں دیا جاتا بلکہ کوئی اپنے لئے یہ الفاظ بھی سننے کے لئے تیار نہیں ہو سکتا کیونکہ ” مادر پدر آزاد " والی حریت دراصل ایک گالی ہے کہ فلاں شخص اپنے اوپر کسی قسم کی بھی قید نہیں لگاتا۔ تو جب ہم میں سے ہر ایک کو اپنے اوپر کوئی نہ کوئی قید لگانی ہی پڑتی ہے اور ہم میں سے ہر ایک کو کسی نہ کسی طرح غلامی کرنی پڑتی ہے تو پھر کیوں نہ ہم محمد رسول اللہ ا کی غلامی اختیار کریں اور کیوں نہ ہم آپ کے فرمائے ہوئے احکام کی قیود کو اپنے اوپر وارد کریں کیونکہ بڑے آدمیوں کی غلامی بھی تو ایسے اعلیٰ مقامات پر پہنچا دیتی ہے جہاں دوسرے لوگ پہنچنے سے قاصر ہوتے ہیں۔ مثلاً ایک تحصیلدار ہے اب بے شک تحصیلدار اپنی جگہ ایک بڑا آدمی ہے لیکن جہاں ڈپٹی کمشنر کا بہرہ جا سکتا ہے کیا تحصیلدار وہاں جاسکتا ہے۔ پھر اور دیکھو ڈ پٹی کمشنر جہاں ہے اور خود جا سکتا ہے وہیں اس کا بہرہ بھی جاسکتا ہے لیکن کئی مقامات پر ڈپٹی کمشنر نہیں جا سکتا مگر کمشنر کا بہرہ وہاں بھی جا سکتا ہے۔ اسی طرح کمشنر کا بہرہ بھی صرف وہاں جاسکتا ہے جہاں خود کمشنر جا سکتا ہے۔ لیکن کئی مقامات پر کمشنر بھی نہیں جا سکتا مگر گورنر کا بہرہ وہاں بھی پہنچ سکتا ہے ۔ تو بڑوں کی غلامی بھی انسان کو بڑا بنا دیتی ہے اور جب ہر انسان کو کسی نہ کسی رنگ کی قیدیں لگی ہوئی ہیں تو کیوں نہ ہم اپنی مرضی سے اپنے اوپر قید لگانے کی بجائے رسول کریم اللہ کی قیدوں کو اپنے اوپر لگائیں اور آپ کی غلامی اختیار کریں جن کی غلامی سے بھی ہم کو عزت حاصل ہو گی اور جن کی بڑائی کے ساتھ ساتھ ہمیں بھی اللہ تعالی کے حضور بڑائی حاصل ہو گئی۔ الفضل ۳۱- اگست ۱۹۶۰ء صفحه ۲ تا ۵)