خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 503 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 503

خطبات محمود ہے اس سے یہ اندازہ تو کیا جاسکتا ہے کہ ہم اس حصہ کے پورا کرنے سے بگڑے ہیں یا اچھے ہوئے ہیں اور پھر باقی حصے پر عمل نہیں کرتے تو اس صورت میں ہم خدا تعالی کے سامنے زیادہ مجرم قرار پائیں گے اور اللہ تعالی ہمیں کہہ سکتا ہے کہ جب تم لوگوں نے بعض حصوں پر عمل کر کے میرے احکام کا میٹھا اور پھل دار ہوتا دیکھ لیا تھا تو پھر کیوں تم نے ان تمام احکام پر عمل نہ کیا۔تو آدمی بهر حال کسی نہ کسی قید میں ہو گا خواہ وہ شرعی قیود کو اپنے اوپر وارد کرے یا خواہ اپنی مرضی سے رسم و رواج کی پابندیوں میں اپنے آپ کو جکڑ لے مگر وہ ضرور کسی نہ کسی قید میں ہو گا اور کسی قوم میں بھی اپنے کسی عزیز کی نسبت "مادر پدر آزاد" والی آزادی کو اچھا قرار نہیں دیا جاتا بلکہ کوئی اپنے لئے یہ الفاظ بھی سننے کے لئے تیار نہیں ہو سکتا کیونکہ "مادر پدر آزاد" والی حریت در اصل ایک گالی ہے کہ فلاں شخص اپنے اوپر کسی قسم کی بھی قید نہیں لگاتا۔تو جب ہم میں سے ہر ایک کو اپنے اوپر کوئی نہ کوئی قید لگانی ہی پڑتی ہے اور ہم میں سے ہر ایک کو کسی نہ کسی طرح غلامی کرنی پڑتی ہے تو پھر کیوں نہ ہم محمد رسول اللہ ﷺ کی غلامی اختیار کریں اور کیوں نہ ہم آپ کے فرمائے ہوئے احکام کی قیود کو اپنے اوپر وارد کریں کیونکہ بڑے آدمیوں کی غلامی بھی تو ایسے اعلیٰ مقامات پر پہنچا دیتی ہے جہاں دوسرے لوگ پہنچنے۔قاصر ہوتے ہیں۔مثلاً ایک تحصیلدار ہے اب بے شک تحصیلدار اپنی جگہ ایک بڑا آدمی ہے لیکن جہاں ڈپٹی کمشنر کا بہرہ جا سکتا ہے کیا تحصیلدار وہاں جاسکتا ہے۔پھر اور دیکھو ڈپٹی کمشنر جہاں خود جا سکتا ہے وہیں اس کا بہرہ بھی جاسکتا ہے لیکن کئی مقامات پر ڈپٹی کمشنر نہیں جاسکتا مگر کمشنر کا بہرہ وہاں بھی جا سکتا ہے۔اسی طرح کمشنر کا بہرہ بھی صرف وہاں جا سکتا ہے جہاں خود کمشنر جا سکتا ہے۔لیکن کئی مقامات پر کمشنر بھی نہیں جا سکتا مگر گورنر کا بہرہ وہاں بھی پہنچ سکتا ہے۔تو بڑوں کی غلامی بھی انسان کو بڑا بنا دیتی ہے اور جب ہر انسان کو کسی نہ کسی رنگ کی قیدیں لگی ہوئی ہیں تو کیوں نہ ہم اپنی مرضی سے اپنے اوپر قید لگانے کی بجائے رسول کریم ﷺ کی قیدوں کو اپنے او پر لگا ئیں اور آپ کی غلامی اختیار کریں جن کی غلامی سے بھی ہم کو عزت حاصل ہوگی اور جن کی بڑائی کے ساتھ ساتھ ہمیں بھی اللہ تعالی کے حضور بڑائی حاصل ہو گئی۔الفضل ۳۱ اگست ۱۹۶۰ء صفحه (۲ تا ۵