خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 486 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 486

خطبات محمود ۴۸۶ طرف مائل ہوتا ہے تو اس کی بدی میں سے اسے بھی حصہ ملتا ہے چنانچہ فرمایا : دوار مَنْ يَشْفَعُ شَفَاعَةً حَسَنَةً يَكُنْ لَهُ نَصِيبٌ مِنْهَا ، وَمَنْ يَشْفَعُ شَفَاعَةَ سَيِّئَةَ يَكنُ لـ كفل منها - له۔جلد سوم له یعنی جو کوئی شفاعت حسنہ کرتا ہے یعنی اپنے نیک نمونہ سے دوسرے کو نیکی کی ترغیب دلاتا ہے تو اس کی نیکی سے اسے بھی حصہ ملتا ہے۔رسول کریم ﷺ نے بھی فرمایا ہے کہ جو شخص نیکی کی ترغیب دیتا ہے اور اس کی وجہ سے دوسرا شخص کوئی نیکی کرتا ہے تو وہ نیکی اس کے نام بھی لکھی جاتی ہے جس نے اس کی ترغیب دی تھی اور نیکی کرنے والے کے ثواب میں کوئی کمی نہیں آتی۔سے تو جب اللہ تعالٰی کی طرف سے کوئی نامور آتا ہے تو اس کے خاندان کے افراد پر دوہری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔لوگ ان کو دیکھتے اور اندازہ کرتے ہیں کہ انہوں نے اس مامور سے کیا اخذ کیا ہے اگر ان کا نمونہ نیک ہو تو لوگ سمجھتے ہیں کہ جس چشمہ سے یہ نکلے ہیں وہ بھی ضرور نیک ہو گا اور اگر وہ بد ہوں تو گو یہ ضروری نہیں کہ یہ چشمہ کے گندہ ہونے کا ثبوت ہو کیونکہ آخر نسلیں خراب ہو ہی جایا کرتی ہیں مگر اس کا عام نتیجہ یہ ہو گا کہ لوگ سمجھیں گے ضرور اس چشمہ میں کوئی خرابی ہوگی اور اس طرح ایسا انسان لوگوں کی گمراہی کا موجب ہو جاتا ہے۔پھر یہ بھی دیکھنا چاہئے کہ ان کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئیوں پر دوسروں کی نسبت زیادہ ایمان ہو کیونکہ وہ ان گھروں میں رہتے ہیں وہ جگہیں جہاں وہ الہام نازل ہوئے ان کو آنکھوں کے سامنے نظر آتی ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے آثار ہمیشہ ان کے ارد گرد رہتے ہیں اور اس وجہ سے ان کے لئے ہر وقت ایمان کو تازہ کرنے کے مواقع بہم پہنچتے رہتے ہیں اور اس لئے ان کو اس بات پر سب سے زیادہ یقین ہونا چاہئے کہ دنیا کی ساری برکت ان ہی پیشگوئیوں کے پورا ہونے میں ہے۔دنیا کی کوئی بڑی سے بڑی زمینداری اور کوئی بڑی سے بڑی تجارت ایسی نہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے چھوٹے سے چھوٹے الہام کی برابری کر سکے۔جو وعدے اللہ تعالٰی نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے کئے ہیں ان میں سے چھوٹے سے چھوٹا بھی اتنا قیمتی ہے کہ دنیا بھر کی بادشاہت بھی اس کے سامنے نہیں ٹھہر سکتی اور اگر ان کے ہوتے ہوئے آپ کے خاندان کا کوئی فرد دنیا کی طرف راغب ہوتا ہے تو اس کے معنے یہ ہیں کہ اس کے دل میں ایمان نہیں۔اگر آپ کے الہام بچے ہیں اور وہ وعدے پورے