خطبات محمود (جلد 3) — Page 34
خطبات محمود جلد سوم کرتی اور چڑانے کے لئے پوچھا کرتی تھیں کہ روٹی کا نام بتا کیا ہے۔اور جب وہ روٹی کو روتی کہتا تو کھیل کھلا کر ہنس پڑا کرتی تھیں۔وہی اس کے سوالوں پر حیرت کا بت بنی ہوئی کہتی ہیں تم تو پڑھے ہوئے ہو۔ہم ان باتوں کو کیا جانیں۔پھر ان کے نزدیک بچوں کے علم کی حد اس قدر وسیع ہو جاتی ہے کہ وہ سمجھتی ہیں ہر بات کا ان کو علم حاصل ہو گیا ہے۔بچپن کی بات ہے اس وقت میں مدرسہ میں پڑھا کرتا تھا میں نے ایک عورت کو جو ہمارے گھر میں رہتی تھی کہا دودھ پر سے ملائی اتار دو۔جب وہ اتارنے لگی تو گرم دودھ کی اس پر چھینٹیں پڑ گئیں۔اس کا غصہ مجھ پر اتارتے ہوئے کہنے لگی اتنے پڑھے ہوئے ہو خود ملائی کیوں نہیں نکال لیتے۔گویا اس کے نزدیک ملائی نکالنے کا طریق بھی ہمیں سکول میں بتایا جاتا تھا۔تو عورتوں پر بچوں کے علم کی اتنی ہیبت چھا جاتی ہے کہ اس کے مقابلے میں منطق بھی یونہی بد نام ہے۔دراصل دلائل کو کسی واقعہ پر منطبق کرنے کا نام منطق ہے مگر عام لوگ اس سے اتنا ڈرا کرتے ہیں کہ حضرت خلیفہ المسیح الاول فرماتے۔ایک مولوی مجھے کہنے لگا میں آپ سے گفتگو نہیں کرنا چاہتا کیونکہ آپ نے منطق پڑھی ہوئی ہے آپ اگر چاہیں تو لکڑی کے ستون کو سونے کا ستون بنا دیں۔یہ صرف منطق کی مصیبت ہے۔اسی طرح بلکہ اس سے بڑھ کر عورتوں پر بچہ کے علم کی بیت چھا جاتی ہے اور وہی بچہ جو کچھ عرصہ پہلے نہایت کمزور اور نحیف ہونے کی وجہ سے ان کی امداد کا محتاج ہوتا ہے ان کے لئے حیرت اور استعجاب کا موجب بن جاتا ہے۔پھر ایک چھوٹا سا بیج بویا جاتا ہے جس سے اس قدر پتلی اور باریک کو نپل نکلتی ہے کہ ایک جانور بکری یا بیل یا گائے یا گھوڑا آتا ہے اسے سونگھ سونگھ کر دیکھتا ہے کہ کھانے کے قابل ہے یا نہیں۔اکثر اوقات چھوٹی سی ہونے کی وجہ سے حقارت کے ساتھ اسے چھوڑ دیتا ہے اور بعض اوقات اس کا کوئی حصہ کاٹ کر کھا جاتا ہے۔پھر کچھ مدت کے بعد جب وہ کو نپل بڑھ جاتی ہے تو پھر جانور اس کے تنے پر منہ مارنے سے عاجز ہو جاتا ہے البتہ اس کے پتوں اور شاخوں پر منہ مارتا ہے۔پھر وہ پورا اور بڑھتا ہے اور اس حالت میں جانور اس سے کھیلتا ہے۔کبھی اس کے ساتھ سر ٹکراتا ہے۔کبھی پاؤں مارتا ہے۔کبھی جسم کا ہے پھر دیکھتے دیکھتے وہی کو نیل جس پر ایک دن حقارت سے جانور منہ مارنے کے لئے تیار نہ تھا اور باریک سی سمجھ کر حقارت سے چھوڑ گیا تھا اسی کے ساتھ مالک اس جانور کو باندھ دیتا ہے اور پھر وہ جانور خواہ اپنا سارا زور بھی لگائے تو بھی چھوٹ نہیں سکتا یہ دیکھتے دیکھتے نقشہ بالکل بدل جاتا ہے اور وہ حیران ہو جاتا ہے۔