خطبات محمود (جلد 3) — Page 462
خطبات محمود ۳۶۲ جلد سوم اور وہ رو پس جو مقصد انسان کے سپرد کیا گیا ہے اس کے ماتحت ضروری تھا کہ یہ تمام قوتیں اس کے اندر ہوتیں ۔ چنانچہ انسان کو خدا تعالیٰ نے سننے کی طاقت دی اور وہ سنتا ہے، دیکھنے کی طاقت دی دیکھتا ہے، ایک حد تک خلق کی طاقت دی اور وہ بچے پیدا کرتا ہے۔ چنانچہ میاں بیوی جب ملتے ہیں تو اس طاقت کے ماتحت ان کے ہاں بچے پیدا ہوتے ہیں، اسی طرح مصور ہونے کی طاقت دی اور وہ بڑی بڑی عمارتوں کے نقشے تیار کرتا اور تصویریں بناتا ہے، اسے محی ہونے کی طاقت دی اور وہ باریک در باریک بیماریوں کے معالجات کا علم رکھتا اور قریب المرگ بیماروں کو زندہ کر دیتا ہے، اسے میت ہونے کی طاقت دی اور وہ ایک مجرم کو پکڑتا اور اسے سزا کے طور پر قتل کر دیتا ہے ۔ غرض یہ ساری صفات اللہ تعالیٰ نے انسان کے اندر رکھی ہیں اور اس لئے رکھی ہیں کہ وہ دنیا میں خدا تعالیٰ کی تصویر بن جائے جیسے ایک آئینہ جسے عربی زبان میں مراد اور اگر 61 کہتے ہیں دوسرے کی شکل دکھا دیتا ہے۔ عربی کے الفاظ اپنی ذات میں معانی پر بھی دلالت کیا کرتے ہیں چنانچہ عربی میں آئینہ کو اسی لئے مراد کہتے ہیں کہ وہ د کہ وہ دوسرے کے وجود کو دکھا دیتا ہے۔ اسی طرح انسان کو خدا تعالیٰ نے اس لئے بنایا ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کی تصویر دنیا کو دکھا دے اگر وہ اپنے آپ کو اس رنگ میں : میں ڈھالے جس رنگ میں شریعت اسے ڈھالنا چاہتی ہے تو اس میں کوئی شبہ نہیں کہ وہ خدا تعالیٰ کی صفات کا کامل مظہر بن سکتا ہے لیکن سب انسان اس رنگ کو اختیار نہیں کرتے بلکہ وہ بعض صفات کو لے لیتے اور بعض کو چھوڑیتے ہیں۔ گویا ان کی مثال بالکل ویسی ہی ہوتی ہے جیسے کہتے ہیں کہ کوئی پوربیہ مر گیا اور اس کی بیوی نے اپنے قبیلہ کے حسب حال بین ڈالنے شروع کر دیئے ۔ جب وہ رونے پیٹنے لگی تو اس دوران میں اس نے اپنے خاوند کی بعض باتیں یاد دلائیں تاکہ اس کی بے کسی کو دیکھ کر اور لوگ بھی روئیں چنانچہ کہنے لگی۔ فلاں شخص سے اس نے اتنی رقم لینی تھی اب کون لے گا۔ اس سے غرض اس کی یہ تھی کہ اب میں لاوارث رہ گئی ہوں میرے کام کون سرانجام دے گا۔ مگر جب وہ روتی اور پیٹتی اور کہتی ہائے ہائے اب فلاں سے جو رقم میں نے لیتی ہے وہ کون لے گا تو ایک پوربیہ جو پاس ہی بیٹھا ہوا تھا وہ کہتااری ہم ری ہم ۔ پھر اس نے کہا فلاں جگہ ہماری اتنی زمین ہے اس کا اب کون انتظام کرے گا تو وہ جھٹ بولا اری ہم رہی ہم ۔ پھر کہنے لگی فلاں جگہ ہمارا کام ہے اس کو کون سنبھالے گا تو وہ فورا بولا اور کہنے لگااری ہم ری ہم ۔ پھر اس نے کہا ہائے میرے خاوند نے فلاں کا اتنا قرضہ دینا تھا اب وہ کون دے گا تو وہ کہنے لگا بھئی برادری میں سے کوئی اور بھی بولے یا میں