خطبات محمود (جلد 3) — Page 459
خطبات محمود ۴۵۹ جلد سوم خدا کے دن کے متعلق جیسا کہ قرآن مجید میں آیا ہے کہ وہ ہزار برس کا ہے اس طرح یہ بھی آیا ہے کہ دھر پچاس ہزار برس کا ہے ۔ قرآن مجید پر حکمت کتاب ہے۔ اس کی ایک ایک آیت میں کئی کئی عظمتیں ہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ کا دن پچاس ہزار برس کا ہو سکتا ہے تو پچاس کروڑ برس کا بھی ہو سکتا ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ پچاس ارب سال کا بھی ہو سکتا ہے تو خدائی غد غیر معین ہے اس قدر غیر معین کہ انسان اس کا اندازہ نہیں کر سکتا۔ انسان اندازہ کرے بھی کیسے ۔ وہ تو اس دن کے اندر ہی مرجاتا ہے۔ اسلامی تعلیم یہ ہے کہ جب انسان کی نظر خدا تعالی کی طرف ہو تو یہ دھیان رکھے کہ میں ابھی مر رہا ہوں اور جب دنیا کے کام میں لگا ہوا ہو اور اپنے ماحول پر نظر رکھے تو یہ سمجھے کہ میں نے کبھی مرنا ہی نہیں۔ شادی کے آئندہ اثرات ظاہر ہونے کے متعلق انسان کو کچھ بھی علم نہیں ہوتا اس لئے اللہ تعالیٰ نے اسے اِنَّ اللهَ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ کے کے ساتھ مل کر دیا کہ انسان کام کرتا جائے اثرات پیدا کرنا ہمارا کام ہے اور ہم جانتے ہیں کہ آئندہ اس کے کیا اثرات ظاہر ہونے والے ہیں۔ بعض لوگ حیشن عورتوں سے شادی کر لیتے ہیں اور کئی نسلیں گزر جاتی ہیں ان میں سے کسی پر اس جشن کا اثر نہیں ہو تا آخر ساتویں یا آٹھویں نسل میں جاکر اس کا اثر ظاہر ہوتا ہے۔ بعض بال جیشیوں کی طرح گھنگھریالے اور رنگ سیاہ ہوتا ہے اس وقت کی نسل کو علم ہی نہیں ہو تا کہ ہمارے باپ دادا میں سے کسی نے حبشن عورت سے بھی شادی کی تھی۔ بعض دفعہ تصویر کے دیکھنے سے بھی بچہ پر اثر پڑ جاتا ہے۔ یورپ کے ایک آدمی کے ہاں ایک دفعہ حبشی بچہ پیدا ہوا اس کے بال اور شکل جیشیوں کی سی تھی اس پر اس نے اپنی بیوی کو قتل کرنے کا ارادہ کیا کہ ایک ڈاکٹر نے اس کے گھر میں ایک حبشی کی تصویر دیکھی ۔ وہ حبشی کئی سال سے مرچکا تھا اس پر شک بھی نہیں ہو سکتا تھا وہ اس شخص کے باپ دادا میں سے کسی کا غلام تھا ڈاکٹر نے بتایا کہ یہ عورت چونکہ اس تصویر کو دیکھا کرتی تھی اس کا اثر بچہ پر ہو گیا ہے۔ تو شادی کے بعض اثرات ایسے بھی ظاہر ہوتے ہیں کہ لوگ انہیں دیکھ کر حیران رہ جاتے ہیں کہ یہ چیز کہاں سے آگئی ہے۔ خوبی اور خرابی کا صرف اللہ تعالیٰ کو ہی علم ہوتا ہے ۔ آج کل خورد بینوں کے ذریعہ اس کی تحقیقات ہوتی ہیں کہ نسل انسانی میں بعض ذرات مخفی طور پر نسلاً