خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 458 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 458

خطبات محمود ۴۵۸ جلد سوم اللہ تعالیٰ کا دن ہزار برس کا ہوتا ہے اور ہزار برس کو انسانی زندگی کے مقابلہ میں اگر وہ سو سال کی بھی ہو رکھا جائے تو وہ چند گھنٹے بنتی ہے اور اگر وہ بھی راحت کا زمانہ ہو تو پھر ایک منٹ سمجھی جائے گی۔ رہے اللہ تعالیٰ نے کیا ہی لطیف نکتہ بیان فرمایا ہے جسے رسول کریم ﷺ نے اس موقع پر بیان کرنے کا مشورہ دیا فرمایا کہ وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَا قَدَّمَتْ لِغَدٍ - سے کہ ہر انسان شادی سے پہلے غذ پر نظر رکھے ۔ میں جیسا کہ بیان کر چکا ہوں اللہ تعالی کا ایک دن انسانوں کے حساب سے ایک ہزار سال کا ہوتا ہے اس غد سے مراد اللہ تعالیٰ کاغذ ہے نہ کہ انسانی غد ۔ اس حساب سے غد انسانی زندگی کے لحاظ سے کم از کم پندرہ سو سال کا بنتا ہے اس میں اللہ تعالٰی نے بتایا ہے کہ شادی کے متعلق غور تو آج ہی کرو ڈیڑھ ہزار برس بعد پر بھی نظر رکھو ۔ ایک لطیفہ مشہور ہے کہ ایک ملا تھا جو کہتا تھا کہ ایک بالشت سے زیادہ ریشم پہننا جائز نہیں۔ ایک امیر آدمی جسے ریشم پہننے کا شوق تھا اور فوج کا افسر تھا وہ ملا کے لئے جہاں نوکر تھا وہاں سے ایک تہہ بند لایا جس کا کنارہ ریشم کا تھا۔ کلا بیچارے نے کبھی اس قسم کا تہبند استعمال نہیں کیا تھا اسے دیکھ کر بہت خوش ہوا اور اسے پہن لیا۔ لوگوں نے اس پر اعتراض کرنے شروع کئے کہ یہ ملا پہلے تو کہا کرتا تھا کہ ایک بالشت سے زیادہ ریشم پہننا جائز نہیں اب وہ خود ریشمی تہبند باندھتا ہے ۔ کسی شخص نے اسے یہ بات بھی کہہ دی۔ اس پر وہ بہت لال پیلا ہوا اور کہنے لگا میں نے کب کہا تھا کہ ایک بالشت سے زیادہ ریشم پہننا جائز نہیں بالشت سے مراد حضرت عمر بھی اللہ کی بالشت ہے تو اس طرح اس ملانے حضرت عمر بنی اللہ کی بالشت کہہ کر ڈیڑھ گز ریشمی کپڑے کا پہننا جائز قرار دے دیا ۔ یہ بات تو لطیفہ ہے مگر ایک حقیقت بھی اس میں ہے۔ پس خدا تعالیٰ کاغذ اور انسان کا غذ الگ الگ ہیں خدا تعالی کے غد سے مراد یہ ہے کہ انسان اپنی نظر لمبی اور دور زمانہ تک رکھے اور شادی کے نتائج کو اگلی نسلوں کے پیدا ہونے تک لے جائے۔ انسان کی اپنی زندگی تو زیادہ سے زیادہ سو سال کی ہوتی ہے اس کو کیا علم ہے کہ اس دن اور اس سے اگلے دن کیا ہونے والا ہے۔ رسول کریم ا نے فرمایا ہے کہ دنیا میں جو کام کرویوں کرو کہ مرنا ہی نہیں۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ انسان کام کرنے سے مرتا ہی نہیں بلکہ یہ ہے کہ دنیا میں ایسا کام کرو کہ اس کا اثر کبھی ختم نہ ہونے والا ہو ۔ یہاں بھی غد سے یہ مراد ہے کہ شادی ایسی کرو کہ اس کا اثر ختم نہ ہونے والا ہو۔