خطبات محمود (جلد 3) — Page 29
خطبات محمود ۲۹ مر کے متعلق ایک سوال کا جواب (فرموده ۲۸ دسمبر ۱۹۱۷ء) ۲۸- دسمبر ۱۹۱۷ء بعد نماز جمعہ حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے (1) مسماۃ حرمت بی بی کا نکاح فیروز دین سے دو سو روپیہ حق مہر پر۔(۲) مسماۃ خاور رشید کا نکاح معراج الدین سے ایک ہزار مریر - (۳) مسماۃ فضل بی بی کا نکاح عبد القدوس صاحب نو مسلم سے تین سو روپیہ مہرپر - (۴) مسماۃ صغری بیگم کا نکاح محمد اسماعیل صاحب سے آٹھ سو روپیہ صر پر پڑھا۔خطبہ مسنونہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :- اس وقت میں کوئی خطبہ نہ پڑھ سکوں گا۔البتہ کسی صاحب نے ایک سوال پوچھا ہے۔اس کا مختصر جواب دیتا ہوں وہ پوچھتے ہیں کہ عورتوں کا مہر جو باندھا جاتا ہے وہ صرف دکھانے کے لئے ہی ہوتا ہے یا اس کا ادا کرنا ضروری ہوتا ہے۔وہ یاد رکھیں کہ مہر دینے کے لئے ہوتا ہے اسلام اس قسم کی نمائش کو جو دھوکا کا موجب ہو ہرگز جائز نہیں رکھتا۔پس جو لوگ صرف دوسروں کو دکھانے کے لئے بڑے بڑے مہرباندھتے ہیں اور ادا نہیں کرتے وہ گنہگار ہیں اور جو اپنی حیثیت سے کم باندھتے ہیں وہ بھی گناہ گار ہیں۔صحابہ کے طرز عمل سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ پہلے ہی ادا کر دیتے تھے پس ایسا ہی کرنا چاہئے۔ہاں اگر کوئی ایک دفعہ سارانہ ادا کر سکے تو کچھ مدت میں ادا کر دے لیکن ادا ضرور کرے۔معجل اور غیر معجل کے الفاظ بعد کی ایجاد ہیں۔شریعت اسلام سے ان کا کوئی تعلق نہیں۔پس