خطبات محمود (جلد 3) — Page 420
خطبات محمود پر ۴۲۰ جلد یہ ایسی حالت تھی کہ جب کہ اکثر لوگوں کو اپنے مال کی فکر ہوتی ہے اپنی بیوی بچوں کی فکر ہوتی ہے مگر وہ انصاری اس وقت بھول گئے اپنی بیوی کے بیوہ ہونے کو ، وہ بھول گئے اس وقت اپنے بچوں کے یتیم ہونے کو اور بھول گئے اپنے روپیہ اور مال کی نگہداشت کو، اس وقت صرف محمد رسول اللہ ا ن کی حفاظت کا خیال ان کو تھا اور یہ جذبہ ان کے تمام جذبات پر غالب تھا۔دوسری چیز يُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلى حُبّهِ مِسْكِينًا وَيَتِيماً وَ اَسِيرًا - میں یہ ہے کہ انسان بعض اوقات اطعام طعام محبت کی وجہ سے کرتا ہے اور بعض وقت عادت کے طور پر پہلی صورت میں یہ فعل اس کا وقتی جذبہ کے ماتحت ہوتا ہے اور دوسری صورت میں بطور عادت ہوتا ہے یعنی بار بار ایک نیکی کرتا ہے یہاں تک کہ اس کو عادت ہو جاتی ہے اور عادتوں کا انسان ر بہت بڑا تصرف ہوتا ہے۔ایک ہندو کا واقعہ ہے کہ وہ مسلمان ہو گیا ایک دفعہ مجلس میں بیٹھا تھا کہ کوئی ایسی بات ہوئی جس پر اہل مجلس نے اللہ اللہ کہنا شروع کر دیا مگر وہ رام رام کہنے لگ گیا۔اس کے ساتھیوں نے اس سے دریافت کیا کہ تم تو مسلمان ہو گئے پھر رام رام کیوں کہتے ہو۔اس نے جواب دیا اللہ اللہ داخل ہوتے ہوتے ہی داخل ہو گا اور رام رام نکلتے ہی نکلے گا۔تو انسان عادت کے طور پر بھی کام کرنے لگ جاتا ہے اگر اس عادت کے پورا کرنے میں نیک ارادہ ہو تو وہ ثواب کا مستحق ہوگا اور اگر بد ارادہ ہو تو وہ عذاب کا مستحق ہوگا۔یہ کیفیت چونکہ محنت اور کوشش سے پیدا کی جاتی ہے اس لئے یہ نہیں ہو سکتا کہ اس کو اس کی محنت کا بدلہ نہ ملے۔وہ جب بھی عادت کے طور پر نیکی کرے گا اس پر جزاء مرتب ہوگی جب اس کا ارادہ نیک ہو گا اس کو ثواب ملے گا اور جب اس کا بد ارادہ ہو گا تو عذاب ہو گا۔عادت انسان کو ثواب سے محروم نہیں کرتی۔مثلاً ایک شخص نماز اس ارادہ سے پڑھتا ہے کہ اس کے ذریعہ سے روحانی ترقیات حاصل ہوتی ہیں اور نماز بدیوں سے محفوظ رکھتی ہے۔اس کو نماز پڑھنے کا جس کا وہ عادی ہو چکا ہے ثواب ملتا رہے گا اور کسی ایک نماز کے ثواب سے بھی وہ محروم نہیں ہو گا۔مگر اس کے برخلاف ایک شخص اس ارادہ کو لے کر نماز پڑھتا ہے کہ اسے محلہ کے لوگوں کے سامنے شرمندہ نہ ہونا پڑے۔تو یہ نماز اس کے لئے بجائے فائدہ کے نقصان دہ ہوگی اور اسے عذاب کا مستحق قرار دے گی۔غرض جس کام کے ساتھ نیک ارادہ ہو اس کی جزاء اچھی ہوتی ہے اور جس کام کے ساتھ