خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 419 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 419

خطبات محمود چند موم ان کو بلا لے گا اور اس طرح ہمارا پردہ فاش ہو جائے گا۔اس پر بیوی نے کہا میں بچوں کو ملا دوں گی۔پھر صحابی نے کہا کہ اب ایک اور مشکل در پیش ہے اور وہ یہ کہ جب وہ کھانا کھائے گا تو ہم دونوں کو بھی کھانے کے لئے کہے گا ( اس وقت ابھی پردہ کا حکم نازل نہیں ہوا تھا) بیوی نے کہا میں نے اس کے لئے بھی تجویز سوچ لی ہے میں دیئے کی بتی چھوٹی رکھوں گی جب کھانا مہمان کے سامنے رکھ دیں گے اور وہ ہمیں کھانے پر بلائے گا تو آپ مجھے اس وقت کہیں کہ بھی اوپر کر دو اس وقت میں بجائے اوپر کرنے کے اور نیچی کر دوں گی اور اس طرح دیا بجھ جائے گا۔اور ہم کہہ دیں گے کہ اب رات کا وقت ہے آگ ملنی مشکل ہے براہ مہربانی اندھیرے میں ہی کھانا کھالیں۔پھر جب مہمان کھانا شروع کر دے گا تو ہم صرف منہ مارتے جائیں گے اور کھانا نہیں کھا ئیں گے۔چنانچہ انہوں نے اسی طرح کیا بچوں کو بہلا کر سلا دیا، خود یونہی منہ ہلاتے رہے اور مہمان نے پیٹ بھر کر کھانا کھا لیا۔دوسرے روز صبح وہ صحابی رسول کریم ان کی خدمت میں حاضر ہوا تو رسول کریم ﷺ اسے دیکھ کر ہنس پڑے اور فرمایا تمہاری رات والی حرکت پر خدا تعالٰی بھی عرش پر ہنسا تو میں کیوں نہ ہنسوں۔پھر رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ رات مجھے اللہ تعالٰی نے بذریعہ وحی تمہارا سب حال بتا دیا تھا۔سے یہاں خدا تعالیٰ کے بننے سے یہ مراد نہیں کہ اللہ تعالیٰ کا منہ ہے اور وہ ہنستا ہے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو اس صحابی کے اس فعل کی وجہ سے جو اس نے رات کیا۔اس سے خاص محبت ہو گئی۔اور اس کیفیت کے اظہار کے لئے رسول کریم ال نے بننے کا لفظ استعمال فرمایا۔) دوسری مثال اس کی یہ ہے کہ جنگ احد میں رسول کریم ا نے بعض صحابہ کو میدان جنگ میں بھیجا کہ وہ زخمیوں کو دیکھیں اور جو زخمی قابل امداد ہوں ان کو مدد دیں۔ایک صحابی زخمیوں کی دیکھ بھال کر رہے تھے کہ انہوں نے ایک انصاری کو دیکھا جو بہت زخمی تھے۔اور ان کی آخری حالت تھی۔صحابی نے کہا تمہارے بچنے کی کوئی امید نہیں اگر کسی کو کوئی پیغام دینا ہو تو دے دیں میں پہنچا دوں گا۔انصاری نے کہا تم مجھ سے عہد کرو کہ واقعی میرا پیغام پہنچا دو گے۔صحابی نے وعدہ کیا اور انہوں نے یہ پیغام دیا کہ میرے رشتہ داروں اور عزیزوں کو میرا یہ پیغام پہنچا دیں کہ رسول کریم اللہ ہم میں اللہ تعالی کی امانت ہیں جب تک ہم زندہ رہے ہم اپنی جانیں قربان کر کے محمد رسول اللہ ایک کی حفاظت کرتے رہے اب ہم جاتے ہیں اور اس امانت کو تمہارے سپرد کرتے ہیں اس کے لئے سب کچھ قربان کر دینا تمہارا فرض ہے۔سے