خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 28 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 28

خطبات محمود ۲۸ جلد موم کریں ان کے ہم پر کوئی حقوق نہیں ہیں۔پھر موجودہ حالات میں عورتوں کو اپنے بہت سے حقوق حاصل کرنے میں مشکلات ہیں۔کئی بیچاری عورتیں عمر بھر دکھ اور تکلیف میں پڑی رہتی ہیں۔ان کے ظالم خاوند نہ تو ان کی خبر گیری کرتے ہیں اور نہ ہی ان کو طلاق دیتے ہیں۔میرا نشاء ہے کہ گورنمنٹ سے خلع کا قانون پاس کرایا جائے۔اس کے پاس کرنے میں گورنمنٹ کا کوئی حرج نہیں ہے اور ایک اسلامی حکم پورا ہو جائے گا۔اس وقت جو لوگ ہمارا کہنا نہیں مانتے اس وقت سرکار کے حکم سے مانیں گے۔اس وقت میں چند ایک نکاحوں کا اعلان کرتا ہوں۔پہلا اعلان صغری بیگم بنت ماسٹر قادر بخش صاحب کا نکاح پانچ سو روپیہ مہر پر عبد القدیر ولد میاں عبد اللہ صاحب سنوری اور مریم بی سور بی بنت میاں عبد اللہ صاحب سنوری کا نکاح پانچ سو روپیہ مصر پر ماسٹر رحیم بخش صاحب ایم۔اے ولد ماسٹر قادر بخش سے ہے۔اسلام نے اس قسم کی شادی کو ناپسند کیا ہے کہ ایک شخص اپنی لڑکی دوسرے شخص کے لڑکے کو اس شرط پر دے کہ اس کے بدلہ میں وہ بھی اپنی لڑکی اس کے لڑکے کو دے لیکن جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے اگر طرفین کے فیصلے الگ الگ اوقات میں ہوئے ہوں اور ایک دوسرے کو لڑکی دینے کی شرط پر نہ ہوئے ہوں تو کوئی حرج نہیں اس طرح کا یہ نکاح ہے۔الفضل ۱۵ جنوری ۱۹۱۸ء صفحه (۴۷۳ له الفضل ۱۵ جنوری ۱۹۱۸ء صفحه ۴ کے بخاری کتاب الاحکام باب موعظة الامام للخصوم