خطبات محمود (جلد 3) — Page 414
خطبات محمود ۴۱۴ جلد سوم بیٹھا ہے۔ بڑی دقت کا سامنا کرنا پڑتا ہے نفس ایک چیز کا مقابلہ کرتے کرتے ہار جاتا ہے اور انسان برائی کر ہے۔ میں نے بتایا کہ انسان اس لئے ناکام رہتا ہے کہ ہے کہ وہ ہمیشہ حال کے جھگڑے میں پڑا رہتا ہے۔ میں نے کہا کوئی حال جو بیسیوں ماضیوں کے بعد پیدا ہوتا ہے کس طرح درست ہو سکتا ہے جب تک اس کے پیچھے اچھے ماضیوں کی طاقت نہ ہو اس لئے تم حال کو بھول جاؤ اور آئندہ کے لئے نیکی کی نیت کر لو تاکہ تمہارے دشمن نے تمہارے خلاف جو قلعے تعمیر کر رکھے ہیں تم مستقبل میں نیکی کی نیت کر کے اس کے خلاف قلعے تعمیر کر لو ۔ جب تم مستقبل میں نیکی کی نیت کر لو گے تو دیکھو گے کہ تمہارے قلعے دشمن کے قلعے کے مقابلہ میں مضبوط ہوتے چلے جائیں گے اور ایک وقت ایسا آجائے گا کہ تم دشمن پر غلبہ پالو گے۔ آگے اللہ تعالیٰ نے گر بتائے ہیں کہ مستقبل کو کس طرح درست کیا جاسکتا ہے چنانچہ فرمایا - وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللهَ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ ہے یعنی چاہئے کہ اعمال کو انسان کی خاطر کرنے کی بجائے خدا کی خاطر کرو۔ جب تم ایسا کرو گے تو اللہ تعالی تمہاری ڈھال بن جائے گا اور جب خدا تعالی تمہاری ڈھال بن جائے گا تو وہ کب پسند کرے گا کہ بدی کے تیر تم پر گریں وہ تمہاری ہر طرح سے حفاظت کرے گا اور تمہیں ہر بدی سے بچائے گا کیونکہ اللہ ہی انسانی اعمال سے پوری طرح واقف ہے۔ انسان تو یہی کر سکتا ہے کہ نیت درست کرے پس تم نیتیں درست کر لو وہ تمہارے اعمال کو درست کر دے گا اس طرح تمہارا مستقبل درست ہو جائے گا اور تمہارے قدم مضبوط ہو جائیں گے۔ نکاح بھی ان ہی اعمال میں سے ہے جو انسان کے مستقبل پر اثر ڈالتے ہیں اس لئے رسول کریم نے اس آیت کا نکاح کے لئے انتخاب فرمایا جس کا مقصد یہ ہے کہ اس عمل میں بھی نیتوں کو خدا کے سپرد کر دو تاکہ تمہارے اعمال کے نتیجہ میں تمہارا مستقبل نہایت شاندار ہو ۔ پس نکاح کے نتیجہ میں اگر اعلیٰ درجے کی اولاد پیدا ہو تو نکاح کرنے والا مرد اور عورت اگر وہ زندہ ہوں تو کتنے خوش ہوتے ہوں گے۔ اور اگر وہ اس وقت فوت ہو جائیں تو ان کی روحیں کس قدر مسرور ہوتی ہوں گی۔ مکہ میں زندگی بسر کرنے والے والدین رسول کریم ال کی ارواح کو جب یہ علم دیا جاتا ہو گا کہ رسول کریم اللہ اور آپ کے صحابہ کے ذریعہ دنیا کو کتنی عظیم الشان نعمت ملی تو انہیں کتنی خوشی ہوتی ہوگی اور وہ کتنا فخر کرتے ہوں گے ۔ خاوند کی روح بیوی کی روح سے کہتی ہوگی دیکھو ہمارا اتحاد کس قدر با برکت ثابت ہوا اور