خطبات محمود (جلد 3) — Page 27
خطبات محمود ۲۷ جلد سوم اس زمانہ میں نکاح کے معاملہ میں جھوٹ، فریب اور دھوکا سے بہت کام لیا جاتا ہے۔لڑکی اور لڑکے والے کسی نہ کسی غرض اور مطلب کے لئے بہت جھوٹ بولتے ہیں اور بعد میں اس سے بڑا فساد اور فتنہ پیدا ہوتا ہے۔میرے پاس ہمیشہ ایسے خطوط آتے رہتے ہیں اور کئی لوگ زبانی بھی کہتے ہیں کہ ہمارے لڑکے لڑکیاں بڑے دکھ اور تکلیف میں ہیں۔ان کی اس قسم کی باتیں سن کر میرا دل درد محسوس کرتا ہے اور مجھے تکلیف ہوتی ہے مگر اس کا علاج میرے اختیار میں نہیں ہوتا میں ان کے لئے دعا کرتا ہوں کہ خداوند تعالیٰ ان پر رحم کرے اور ان کی تکلیف کو دور کرے مگر یہ ان کے اپنے ہی ہاتھوں کی کمائی ہوتی ہے۔سو یاد رکھنا چاہئے کہ قرآن کریم کے احکام سے کوئی برکت باہر نہیں ہے۔جھوٹا ہے جو یہ کہے کہ قرآن کریم کو چھوڑ کر اور اس سے علیحدہ ہو کر کوئی برکت حاصل ہو سکتی ہے۔پس اگر تم اپنے نکاحوں میں برکت چاہتے ہو تو انہیں قرآن کریم کے مطابق بناؤ۔خدا تعالیٰ میں بڑی طاقتیں ہیں اس کے فیصلے تو نہیں ہو سکتے۔اس سے فیصلہ چاہو تاکہ تمہاری تمام وقتین اور تکلیفیں دور ہوں۔مومن کے لئے اس دنیا کو جہنم نہیں بنایا گیا۔مگر مومن بغیر قرآن کے احکام ماننے کے ہو نہیں سکتا جو اعلیٰ درجہ کے مومن ہوتے ہیں یعنی مامور و مرسل ان کی جنت کا تو ہم اندازہ نہیں لگا سکتے مگر ہر ایک مومن اپنے اوپر خدا تعالی کے خاص فضل محسوس کرتا ہے۔میں نے یہ دیکھنے کے لئے کہ قرآن کہتا ہے کہ مومن کو اس دنیا میں جنت ملتی ہے بارہا غور کیا ہے اور دیکھا ہے کہ خواہ کوئی کیسی ہی تکلیف اندرونی ہو یا بیرونی دشمنوں کا حملہ ہو یا شرارت، کچھ ہو کبھی اضطراب نہیں پیدا ہوا اور اپنے جسم کے کسی گوشہ میں جنم نظر نہیں آیا جنت ہی جنت دکھائی دیا ہے۔پس اگر تم مومن بنو گے تو خدا تمہارے گھروں کو جنت بنا دے گا۔راحت اور آرام پیدا کر دے گا۔عارضی اور معمولی جھگڑے تو انسانوں میں ہوتے ہی ہیں صحابہ کرام میں بھی ہو جایا کرتے تھے مگر مومن کے لئے ایسا جھگڑا جو جنم ہو کبھی نہیں ہو تا۔اور کبھی کوئی تکلیف ایسی نہیں ہوتی خواہ ساری ہی دنیا خلاف اٹھ کھڑی ہو۔پس اپنے نکاحوں میں یہ بات ضرور مد نظر رکھو۔پھر عورتوں پر بہت رحم کرو۔یہ جنس بہت غریب اور کمزور ہے۔اس زمانہ میں اس پر اتنے ظلم ہو رہے ہیں کہ دیکھ کر دل کانپ جاتا ہے۔بہت لوگ ہیں جو یہ خیال کرتے ہیں کہ عورتیں ہمارے لئے عیش و عشرت کے سامانوں میں سے ایک چیز ہیں ہم جس طرح چاہیں ان سے سلوک