خطبات محمود (جلد 3) — Page 404
خطبات محمود جلد سوم کرنے والے کا اپنا اختراع ہو گا لیکن بہر حال یہ ایک نہایت ناپاک تجویز ہے۔اس شخص کو سوچنا چاہئے کہ اگر کوئی دین کو فروخت کرنے پر ہی آئے تو کیا وہ اس کی قیمت میں مولوی محمد علی صاحب اور ان کے رفقاء کو قبول کرے گا؟ آخر وہ کون سی طاقت ہے جسے وہ اپنے ساتھ لائیں گے ؟ کیا انہیں طاقت ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کے عذاب سے نافرمانوں کو بچالیں کہ انسان سمجھے خدا تعالی کی ناراضگی کو یہ شخص دور کر دے گا۔یا ان میں طاقت ہے کہ وہ قوم کے گرے ہوئے اخلاق کو درست کر دیں اور اس کی ضمیر کو تسلی دے دیں کہ انسان یہ سمجھے کہ چلو اس گناہ عظیم کے بعد ایک نئی روحانی زندگی مجھے کو مل جائے گی میں اس برکت کے حصول کے لئے اس چھوٹے گناہ کا ارتکاب کرلوں۔مگر کوئی ایسا انسان نہیں جسے خدا تعالٰی سے یہ رتبہ ملا ہو۔پھر کوئی احمق ہی ہو گا جو دنیا کے لئے دین کو فروخت کر دے۔ہر انسان جو حق کو قبول کرتا ہے خدا تعالیٰ کا اس پر احسان ہوتا ہے نہ کہ اس کا خدا تعالیٰ پر۔جو شخص اس سلسلہ میں داخل ہوتا ہے اور خوشی سے احمدیت کو قبول کرتا ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر ایمان لاتا ہے وہ ہم پر کسی قسم کا احسان نہیں کرتا بلکہ اپنے لئے اور اپنے خدا کو راضی کرنے کے لئے آتا ہے۔مگر جو شخص یہ شرط لگاتا ہے کہ وہ ماننے کو تیار ہے بشرطیکہ ہم اس کی خاطر کوئی دینی مسئلہ چھوڑ دیں وہ یا تو سخت دھوکا خوردہ ہے یا پھر فریبی اور بے ایمان ہے اور بدظنی کا ارتکاب کرنے والا ہے ایسے شخص کی حیثیت ایک دھیلے بلکہ کوڑی کے برابر نہیں۔دین کے مقابل پر اس کی حیثیت ہی کیا ہو سکتی ہے کہ اس سے ملنے کے لئے دین کو چھوڑا جائے۔اللہ تعالی کے وہ بے شمار احسانات جو اس نے ہم گناہ گاروں کے لئے دکھائے ہیں کیا ہم ان کو بھلا سکتے ہیں۔اور کیا وہ دن مجھے بھول سکتے ہیں جب اللہ تعالیٰ نے مجھے خلعت خلافت عطا کیا، کیا میں وہ دن بھول سکتا ہوں جب کہ کمزور لوگ آتے اور کہتے تھے کہ مولوی محمد علی صاحب بہت جلد قادیان سے جانے والے ہیں اور خزانہ میں کوئی روپیہ نہیں اب کیا بنے گا؟ بڑے لوگ چلے جائیں گے اور سامان کوئی ہو گا نہیں پھر سلسلہ کا کام کس طرح چلے گا۔اور کیا میں وہ دن بھول سکتا ہوں جبکہ غیر مبائعین میں سے بعض علی الاعلان کہتے تھے کہ یہاں آریوں اور عیسائیوں کا قبضہ ہو جائے گا۔چنانچہ مرزا یعقوب بیگ صاحب نے یہاں سے جاتے ہوئے تعلیم الاسلام ہائی سکول کی طرف اشارہ کر کے کہا تھا کہ وہ دن قریب ہیں جب کہ یہاں عیسائی قابض ہوں گے مگر دیکھنے والا دیکھ سکتا ہے کہ کیا ہوا اور اللہ تعالٰی نے ان کو کیا دکھایا۔صرف یہی نشان