خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 399 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 399

خطبات محمود ۳۹۹ جلد سوم واپس آئے تو میں نے دیکھا کہ سر نیچا کیا ہوا ہے اور اس کوشش میں ہیں کہ اگر مجھ سے بچ کر نکل سکیں تو نکل جائیں۔چونکہ میں انہی کے انتظار میں وہاں کھڑا تھا کہ دیکھوں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے کیا جواب لاتے ہیں۔میں دوڑ کر ان کے پاس گیا اور پوچھا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کیا فرمایا ہے؟ کہنے لگے فرماتے ہیں یہ کہاں لکھا ہے کہ یہ سب بیویاں ایک وقت میں زندہ تھیں۔غرض ایک شادی تو استثنائی صورت ہے اور ایک سے زیادہ شادیاں بطور قانون ہیں۔بے شک ہمارے ملک میں غربت کی حالت ہے لیکن غربت کے ہوتے ہوئے بھی ایک سے زیادہ شادیاں ہو سکتی ہیں اور امن کی زندگی بسر کی جاسکتی ہے۔لیکن مشکل یہ ہے کہ زندگیاں مغربی طرز اختیار کرتی جارہی ہیں اور آمدنیاں کم ہیں۔مثنوی رومی والے نے لکھا ہے کہ ایک شخص جب اپنے دوستوں کے ہاں جاتا اور دوست اسے کہتا کہ کھانا کھا لو تو وہ کہتا کیا کھاؤں ناک تک پیٹ بھرا ہوا ہے۔ابھی ابھی دینے کا پلاؤ کھا کر آیا ہوں۔دیکھیں ابھی تک چربی مونچھوں کو لگی ہوئی ہے۔کبھی کہتا تنجن کھا کر آیا ہوں اور دیکھئے چکنائی لبوں سے نہیں اتری۔کچھ عرصہ تک وہ اس قسم کی باتیں کرتا رہا ایک دن ایسا اتفاق ہوا کہ اس کے دوست اس کی بیٹھک میں جمع تھے اچانک اس کا لڑکا دوڑتا ہوا آیا اور آکر کہنے لگا۔ابا جان دنبے کی وہ چربی جو آپ مونچھوں پر ملا کرتے تھے چیل اٹھا کر لے گئی ہے اس پر اس کا سارا بھانڈا پھوٹ گیا۔سکے تو یہاں بھی یہی حال ہے۔لوگوں کی زندگیاں تو مغربی طریق پر ہیں اور خیالات وہی پرانے ہیں۔اس مجموعے سے ان کے دو کشتیوں میں پاؤں ہیں اور یہی وجہ ہے کہ مشکلات پیدا ہو رہی ہیں۔ورنہ قانون قدرت نے کوئی مشکلات پیدا نہیں کیں۔بعض اسلامی علاقوں میں مثلاً تبت وغیرہ کی طرف عام طور پر کہا جاتا ہے کہ فلاں شخص بڑا مالدار ہے کیونکہ اس کے گھر میں فلاں جنس بھری پڑی ہے، اس کی اتنی بھینسیں ہیں، اتنے چوپائے ہیں غرض وہاں ان چیزوں کو دولت سمجھا جاتا ہے۔بعض اور علاقوں میں مثلاً افغانستان کی سرحد پر کہا جاتا ہے کہ فلاں شخص بڑا دولت مند ہے اس کی چار بیویاں ہیں تو بعض علاقوں میں بیویاں بھی دولت سمجھی جاتی ہیں کیونکہ وہ بھی کھیتی باڑی کا اور دوسرا کام کرتی ہیں اور اس طرح آمدنی بڑھتی ہے۔ہاں جو غیر مسلم ہیں وہ بھی مسلمانوں کے اثر کے ماتحت ایک سے زیادہ بیویاں رکھتے ہیں اور چار سے بھی زیادہ کر لیتے ہیں۔اور ہندوستان میں نوابوں اور راجوں کے ہاں تو بیویوں کی کوئی حد بندی ہی نہیں۔اصل بات یہ ہے کہ ہر ملک