خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 375 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 375

خطبات محمود ۳۷۵ جلد سوم اس کی ضرورت ہی کیا ہے؟ ماں باپ کی محبت اپنے بچوں سے اور میاں بیوی کی محبت ایک دوسرے سے پاکیزہ صورت میں خدا کی محبت کی تصویر ہے ۔ رسول کریم ا نے ماں کی محبت کو خدا تعالیٰ کی محبت سے مشابہہ قرار دیا ہے اور خاوند بیوی کے تعلقات کی بنیاد جس محبت پر ہے وہ بھی آنحضرت ا کے طریق عمل اور کلمات سے ثابت ہے۔ پس انبیاء جیسی پاکیزہ درس دینے والی جماعت کے طریق عمل کی موجودگی میں اور کسی کی ایجاد کی ضرورت ہی کیا ہے اور یہ حماقت ہے کہ جس چیز کو اللہ تعالیٰ نے اپنی ملاقات کا ذریعہ بنایا ہے اسے ایسے طریق سے استعمال کیا جائے کہ جو خطرات سے پڑ ہو مگر لوگوں نے اس قسم کی غلطی کا ارتکاب کیا ہے ۔ شخص رسول کریم اللہ کے متعلق احادیث میں آتا ہے کہ آپ فرمایا کرتے تھے کہ جو اپنی بیوی کے منہ میں لقمہ اس نیت سے ڈالتا ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھ سے راضی ہو تو ثواب پاتا ہے۔ ہے وہ کھانا تو بیوی کو کھلاتا ہے جس سے اس کے جسم میں صالح خون پیدا ہوتا ہے، اس کے چہرہ میں خوشنمائی پیدا ہوتی ہے، اس ۔ ہے، اس سے تندرست بچے پیدا ہوتے ہیں گویا بیوی ام بیوی اس کی روٹی اس کی، تندرست بچے اس کے ، مگر راضی اللہ تعالیٰ ہوتا ہے۔ کیونکہ یہ بھی ایک صدقہ ہے اور یہ بھی ثواب کا موجب ہے۔ رسول کریم اس کے متعلق احادیث میں آتا ہے کہ اپنی بیویوں کی دلداری کے لئے بعض دفعہ ایسا ہو تاکہ کوئی بیوی بر تن سے جہاں منہ لگا کر پانی پیتی تھی آپ بھی اسی مقام پر منہ لگا کر پانی پیتے ۔ سے ایک بدفطرت انسان نے ایسی احادیث کو جمع کر کے ایک کتاب لکھی ہے۔ میں نے اس کے ایک حصہ کا جواب بھی لکھا ہے ۔ کہ اس نے اپنے خیال میں ایک عورت دیکھی اور ایک مرد اور شہوانی خیال میں مبتلاء ہو کر صحیح راستہ سے بہک گیا۔ دراصل اس شخص نے فطرت انسانی کو سمجھا ہی نہیں اور محبت الہی کی ابتدائی کڑی کو دیکھا ہی نہیں۔ اس نے صرف خاوند بیوی کے تعلقات کو دیکھا مگر اس نے یہ نہ دیکھا کہ وہ محبت کیوں کرتے ہیں اور اس میں کیا چیز دیکھتے ہیں۔ حضرت نظام الدین اولیاء ایک دفعہ بازار سے گزر رہے تھے کہ ایک خوبصورت بچے کو دیکھا آپ آگے بڑھے اور اس کو چوم لیا۔ ان کے ساتھ ان کے شاگر د بھی تھے انہوں نے بھی اس بچے کو چوما مگر ایک شخص نے جو بعد میں ان کا خلیفہ ہوا نہ چوما۔ دوسروں نے سمجھا کہ یہ متکبر ہے جس نے مرشد کے طریق کی اتباع نہیں کی لیکن آگے بڑھے تو ایک بھڑ بھو نجی بیٹھی تھی بھٹی میں آگ جلا رہی تھی حضرت نظام الدین اولیاء نے آگے بڑھ کر شعلہ کو چوم لیا۔ اس پر آپ