خطبات محمود (جلد 3) — Page 359
خطبات محمود ۳۵۹ جلد سوم تمہیں بھلے مت سمجھو حجمان بیٹی کا ٹینٹوا کرو دھیان اس میں یہی بتایا گیا ہے کہ نکاح کے متعلق لڑکے والے بھی فریب اور دھوکا سے کام لیتے ہیں اور لڑکی والے بھی اور اتنا نہیں خیال کرتے کہ یہ فریب جلد ہی کھل جائے گا اور اس وقت لے اتنا بہت زیادہ فتنہ پڑے گا۔ ہم دیکھتے ہیں جہاں امید ہوتی ہے وہاں ہی گلہ اور افسوس بھی کیا جاتا ہے اور جہاں امید نہیں ہوتی وہاں کوئی افسوس نہیں ہوتا۔ ایک شخص کسی غیر کے گھر جاتا ہے جس کے متعلق اسے اتنی بھی امید نہیں ہوتی کہ عزت و توقیر سے بٹھائے گا تو اس پر اسے کوئی گلہ نہ ہو گا بلکہ اسی بات پر خوش ہو جائے گا کہ اس نے اسے کوئی ناگوار بات نہیں کی۔ ایسے موقع پر عدم شرکو ہی خوشی کا موجب سمجھ لے گا مگر ایک شخص جو کسی دوست کے ہاں جاتا ہے وہ دوست اگر اس کی اچھی طرح تواضع نہ کرے تو ناراض ہو جاتا ہے غرض جہاں امید ہو وہاں ہی گلہ بھی پیدا ہوتا ہے۔ لڑکے لڑکی والوں کا ایک دوسرے سے صفائی کے ساتھ بات نہ کرنا نکاح کے بعد گلہ پیدا کرتا ہے اور پھر بڑے بڑے فتنوں تک نوبت پہنچ جاتی ہے۔ پس بیاہ شادی کے موقع پر خاص طور پر بیچ سے کام لینا چاہئے جس طرح عبادات میں نماز اتنی ضروری ہے کہ جو شخص اسے چھوڑتا ہے وہ مسلمان نہیں رہ سکتا۔ اسی طرح نکاح کے معاملہ میں جو بیچ کو چھوڑتا ہے وہ ساری عمر کی مصیبت سہیڑ لیتا ہے۔ الفضل (۱۴ اگست ۱۹۳۴ء صفحه ۵)