خطبات محمود (جلد 3) — Page 358
۳۵۸ ۹۲ خطبات محمود شادی بیاہ کے معاملات میں سچ سے کام لینا چاہئے (فرموده یکم اگست ۱۹۳۴ء) یکم اگست ۱۹۳۴ء بعد نماز عصر حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے بابو محمد اسماعیل صاحب قادیان کی لڑکی اقبال بیگم کے نکاح کا اعلان فرمایا۔خطبہ مسنونہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :- رسول کریم ﷺ نے نکاح کے موقع پر جن آیات کا انتخاب فرمایا ہے ان میں انصاف اور سچائی کی خصوصیت سے ضرورت بیان کی گئی ہے اور اس پر زور دیا گیا ہے کہ سچائی ہر موقع پر ہی ضروری ہے اور اس کے بغیر کوئی کام نہیں چل سکتا۔ایک جگہ مل کر رہنے والے باپ بیٹے بہن بھائی اور دوسرے رشتہ دار اگر ایک دوسرے کے ساتھ سچائی کا معاملہ نہ کریں تو کتنا فساد پیدا ہو سکتا ہے۔لیکن میاں بیوی کے معاملہ میں سچائی کی اور بھی ضرورت ہوتی ہے ورنہ بڑے بڑے فتنے پیدا ہو جاتے ہیں۔شریعت نے خصوصیت کے ساتھ نکاح کے معاملہ میں سچائی پر زور دیا ہے مگر ہمارے ملک میں بد قسمتی سے سب سے زیادہ جھوٹ نکاح کے متعلق بولا جاتا ہے حتی کہ اتنا جھوٹ بولا جاتا ہے کہ لطائف بن گئے ہیں۔کہتے ہیں ایک شخص کا لڑکا کا نا تھا جس کے لئے اسے کہیں سے رشتہ نہ ملتا تھا۔آخر کسی جگہ اس نے لڑکا دکھائے بغیر لالچ دے کر رشتہ کر لیا جب شادی ہو گئی تو لڑکے والا کہنے لگا۔ہمیں بھلے بھئی ہمیں بھلے کا نا بیٹا بیاہ لے چلے۔اس پر لڑکی والے نے کہا