خطبات محمود (جلد 3) — Page 356
خطبات محمود ۳۵۶ جلد سوم عائشہ دنیا کو نصف ایمان سکھانے والی تھیں۔عائشہ رسول کریم ﷺ کی پیاری بیوی تھیں ان کا نمونہ ہمارے لئے پاک نمونہ ہے۔کیا محبت تھی ان کے دل میں ایک میدہ کی روٹی بھی وہ رسول کریم ﷺ سے جدا ہو کر نہ کھا سکیں اور اس کے کھاتے ہوئے بھی ان کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔پھر کیا دنیا کی بڑی سے بڑی نعمتیں دیکھ کر ہماری آنکھوں میں آنسو نہیں بھرنے چاہئیں۔جب تک اس دنیا میں ہماری وہ حالت نہ ہو جو حضرت عائشہ کی تھی اس وقت تک حقیقی معرفت کے حصول سے ہم دور ہیں۔اگر خدا ہمیں اچھا پہناتا ہے تو ہم بے شک پہنیں، اچھا کھلاتا ہے تو ہم بے شک کھائیں مگر ہمارے دل میں یہ درد ہونا چاہئے کہ دنیا پر دجال قابض ہے کاش ہمیں طاقت ہو تو ہم دنیا کی ہر چیز محمد ﷺ اور آپ کے شاگردوں کے لئے مخصوص کردیں۔بے شک خدا ہمارا آتا ہے اور وہ ہمیں اچھی چیز کھلاتا یا پہناتا ہے تو ہمیں کھانی یا پہنی چاہئے مگر باوجود اس کے ان چیزوں کو ہمارے گلوں میں پھنسنا چاہئے اور ہمارے دل میں تڑپ ہونی چاہئے کہ جب تک ان کپڑوں کے بننے والے اور کھانوں کو تیار کرنے والے مسلمان نہیں ہو جاتے جب تک ہر تا گا جو دوسرے تاگا میں پر دیا جاتا ہے ایک مسلمان کے ہاتھ سے پر دیا نہ جائے اور اس ANALOGENDANTANA الله محد رسُولُ اللهِ - نہ پڑھا جائے ہم چین، اطمینان اور راحت کے بستر پر نہیں سو سکتے۔ان کھانوں کے کھاتے وقت اور ان کپڑوں کے پہنتے وقت ہمارے دل میں ایک آگ ہونی چاہئے ایک سوزش ہونی چاہئے کہ ہر نعمت خواہ وہ دینی ہو یا دنیوی اس کی کنجی محمد ﷺ کے ہاتھ میں ہو۔یہ چیز ہے جسے ہمیں اپنے اندر پیدا کرنا چاہئے۔اگر ہم اسے پیدا کر لیں تو ہماری عقل اور ہمارے فہم و فراست میں ایک برکت رکھ دی جائے گی۔ورنہ یہ ایک طبعی بات ہے کہ خوشی کے موقع پر زیادہ رنج پیدا ہوتا ہے۔جب مومن کو کوئی خوشی پہنچتی ہے تو اسے خیال آتا ہے کہ کیا اس خوشی میں محمد ﷺ اور حضرت مسیح موعود شریک ہیں یا نہیں۔اگر وہ شریک ہوں تو ہمارے لئے خوشی ہے اور اگر وہ اس میں شریک نہ ہوں تو خوشی رنج کو بڑھانے والی اور ہمارے دلوں کو مغموم کرنے والی ہوگی۔ایک خاوند جس کی بیوی مرجاتی ہے یا ایک عورت جس کا خاوند مرجاتا ہے جب وہ اپنے بچوں کی شادیاں کرتے ہیں تو خوش ہوتے ہیں مگر ساتھ ہی ان کے آنسو بھی بہہ رہے ہوتے ہیں اور کہتے ہیں کاش! ان بچوں کی والدہ یا والد زندہ ہوتا۔یہی حال مومن کا ہوتا ہے اسے کوئی خوشی پہنچے ساتھ ہی اسے رنج بھی ہوتا ہے اور وہ کہتا ہے کہ کیا 16