خطبات محمود (جلد 3) — Page 353
خطبات محمود ۳۵۳ جلد سوم گے، تم سے امید کی جاتی ہے کہ تم فخر اور خیلاء کے خیالات کو اپنے اندر پیدا نہیں ہونے دو گے، بلکہ ان تمام کاموں کے باوجود تم سے امید کی جاتی ہے کہ تم اپنی خدمات کو ایک ذلیل اور کھوٹا پیسہ تصور کرو گے اور کہو گے کہ خدا تعالیٰ کو تم نے ایک کھوٹا پیسہ دیا مگر اس نے تمہیں دولت بے حساب دی۔یہ ہے وہ آواز جو تمہیں محمد ﷺ نے دی، اور یہ ہے وہ آواز جو مسیح موعود نے دی، یہ ہے وہ آواز جو خدا تعالیٰ نے دی، اگر خدا اور اس کے رسول اور اس کے مسیح موعود کی پکار کے بعد بھی کسی کے دل سے لبیک کی آواز بلند نہیں ہوتی تو وہ ایک مردہ دل ہے خواہ وہ کتنے ہی کی اچھے لباس میں موجود ہو۔کیا لطیف نمونہ ہے جو حضرت بدھ 11 نے دکھایا۔بدھ اپنے باپ کے اکلوتے بیٹے تھے۔جب خدا تعالیٰ کی تڑپ ان کے دل میں پیدا ہوئی تو وہ اپنے گھر سے نکل گئے اور مدتوں جنگل اور بیابان میں عبادتیں کرتے رہے۔آخر خدا تعالیٰ نے ان پر اپنا الہام نازل کیا اور انہیں نبوت کے مقام پر فائز کر کے دنیا کی اصلاح کے لئے مامور کیا۔اس زمانہ کے حالات کے لحاظ سے آپ نے اپنے متبعین کو حکم دیا کہ دنیا نہ کماؤ بلکہ دن بھر دین کا کام کرو اور جب بھوک لگے تو بھیک مانگ کر کھالو۔جب ان کی شہرت سارے ہندوستان میں پھیل گئی تو ان کے باپ نے بھی جو بہار کے علاقہ میں تھا انہیں بلا بھیجا اور آخر وہ بھی ان کی مریدی میں داخل ہو گیا۔جب بدھ وہاں سے واپس آنے لگے تو ان کے باپ کو خیال آیا کہ گدی کے متعلق کوئی فیصلہ ہونا چاہئے۔اس زمانہ میں قانون تھا کہ یا باپ خود گدی پر بیٹھتا یا اپنے بیٹے یا پوتے کو گدی بخش دیتا اس صورت کے علاوہ گدی نشین ہونے کی کوئی صورت نہ تھی۔بدھ کے باپ نے جب دیکھا کہ یہ تو گدی پر بیٹھیں گے نہیں۔اس نے اپنے پوتے کو بلایا اور اسے فقیرانہ لباس پہنا کر اور کشکول ہاتھ میں دے کر کہا اپنے باپ کے پاس جا اور کہ کہ میں بھی اپنا حق مانگنے آیا ہوں۔گویا مطلب یہ تھا کہ بادشاہت کے لئے آپ اپنا حق میری طرف منتقل کر دیں۔بدھ کا طریق تھا کہ جب کسی کو اپنے سلسلہ میں شامل کرتے تو اس کا سر منڈوا دیتے۔جب بیٹا ان کے پاس آیا تو انہوں نے کہا کیا تو مجھ سے بھیک مانگنے آیا ہے؟ اس نے کہا ہاں۔انہوں نے کہا۔اچھا تو جو کچھ میرے پاس ہے وہ میں دے دیتا ہوں۔یہ کہہ کر اپنے ایک شاگرد کو بلایا اور کہا کہ اس کا سر مونڈھ دو اور اسے بھکشو بنا دو۔جس کے معنے یہ تھے کہ بادشاہت اس کے خاندان سے نکل گئی۔باپ نے جب یہ