خطبات محمود (جلد 3) — Page 344
خطبات محمود ام نداد جلد سوم شروع کیا اس وقت بعض صحابہ نے آپ کے گھوڑے کی باگ پکڑلی اور کہا یا رسول الله ال ! یہ خطرے کا وقت ہے اب مناسب نہیں کہ آپ آگے بڑھیں مگر رسول کریم ﷺ نے فرمایا مجھے چھوڑ دو نبی پیچھے نہیں ہٹا کرتا پھر آپ نے بلند آواز سے کہا۔ دو انا النبيُّ لا كَذِبُ أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِب شه میں نبی ہوں جھوٹا نہیں میں عبد المطلب کا بیٹا ہوں۔ پھر آپ نے کہا۔ عباس! بلند آواز سے کہو کہ اے اے انصار ! خدا کا رسول اللہ تمہیں بلاتا ہے ۔ اس وقت آپ نے مکہ والوں کو آواز دینے کے لئے نہ کہا کیونکہ مکہ والے ہی تھے جنہوں نے اس جنگ میں فتح کو شکست سے بدل دیا تھا پس آپ نے انصار کو مخاطب کیا اور حضرت عباس سے کہا کہ انصار کو آواز دو کہ خدا کا رسول تمہیں بلاتا ہے۔ حضرت عباس کی آواز بہت بلند تھی جب انہوں نے زور سے کہا کہ اے انصار ! خدا کا رسول ال تمہیں بلاتا ہے تو صحابہ کہتے ہیں یا تو ہماری یہ حالت تھی کہ ہم گھوڑے موڑتے تھے اور وہ نہیں مڑتے تھے جو نہی یہ آواز بلند ہوئی کہ اے انصار ! خدا کا رسول ال تمہیں بلاتا ہے ہمیں یوں معلوم ہوا کہ قیامت کا دن ہے اور صور اسرائیل پھونکا جا رہا ہے۔ ہم میں سے جو شخص اپنی سواری کو لوٹا سکا اس نے واپس لوٹا کر اور جس نے دیکھا کہ اس کی سواری نہیں مڑتی اس نے تلوار سے اس کی گردن کاٹ کر رسول کریم ﷺ کی طرف بڑھنا شروع کیا یہاں تک کہ چند منٹ میں ہی میدان لشکر اسلامی سے بھر گیا۔ شہ یہ وہ آواز تھی جو خدا کے رسول ﷺ نے دی۔ اور اس کی قدر انصار نے یہ کی کہ جس وقت یہ آواز ان کے کانوں میں پنچی انہوں نے کسی چیز کی پرواہ نہ کی ۔ اگر ان میں سے کسی کی سواری مرسکی تو سواری پر چڑھ کر ورنہ اپنے گھوڑوں اور اونٹوں کی گردنیں اڑاتے ہوئے چند منٹ میں ہی رسول کریم اللہ کی آواز پر جمع ہو گئے ۔ دور هم اس آواز سے زیادہ شان کے ساتھ، اس آواز سے زیادہ یقین کے ساتھ ، اس آواز سے زیادہ اعتماد کے ساتھ، اس آواز سے زیادہ محبت کے ساتھ، اس آواز سے زیادہ امید کے ساتھ ، خدا کے رسول ﷺ نے ۱۳ سو سال پہلے کہا تھا ۔ لوْ كَانَ الْإِيْمَانُ مُعَلَّقًا بِالثَّرَيَّا لَنَا لَهُ رِجَالٌ مِنْ أَبْنَاءِ فَارَسُ - شاه وہ وقت جب میری امت پر آئے گا، جب اسلام مٹ جائے گا، جب دجال کا فتنہ روئے زمین پر غالب آجائے گا، جب ایمان مفقود ہو جائے گا، جب رات کو