خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 338 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 338

خطبات محمود جلد سوم میں سے آپ کو گزرنا پڑا ان سے تمام مسلمان واقف ہیں اور ہماری جماعت کے سامنے تو یہ مسئلہ کئی رنگوں میں آتا رہتا ہے۔آپ آخری روشنی تھے جو ظاہر ہوئے آپ کے بعد کوئی نور ایسا آنے والا نہ تھا جو آپ کے نور سے منور نہ ہو۔اسی طرح آپ کا ہدایت نامہ آخری ہدایت نامہ تھا یعنی پھر دنیا میں کوئی ایسی ہدایت آنے والی نہ تھی جو آپ کے ہدایت نامہ کے خلاف ہو لیکن آپ کے لئے بھی مقدر تھا کہ کچھ عرصہ کے بعد لوگ آپ کے لائے ہوئے نور سے بھی محروم ہو جائیں، پھر شیطان سر اٹھائے، پھر دنیا میں گمراہی پھیل جائے اور پھر ایسا فتنہ ظاہر ہو جو آپ کی لائی ہوئی تعلیم اور نیکی و ایمان کو خطرہ میں ڈال دے۔بلکہ ایک ایسا فتنہ مقدر تھا جس کی مثال دنیا میں نہیں ملتی۔خود رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں۔مَا بَيْنَ خَلْقِ ادم إلى قيَامِ السَّاعَةِ أَحْبَرُ مِنْ أَمْرِ التَّجَالِ۔سے یعنی ایک دجالی فتنہ ظاہر ہونے والا ہے کہ خلق آدم سے لے کر قیامت تک اس سے بڑا فتنہ کوئی ظاہر نہیں ہوا ہو گا۔پس جس طرح رسول کریم ﷺ کا وجود سارے وجودوں سے بڑھ کر تھا جس طرح آپ کی لائی ہوئی تعلیم تعلیموں سے اکمل تھی ویسے ہی آپ کے بعد ایک ایسا فتنہ ظاہر ہونے والا تھا جو دنیا کے تمام فتنوں سے بڑا تھا۔گویا ایک طرف جب آپ کے وجود میں رحمانی طاقتوں نے کامل طور پر ظہور کیا تو آپ کے مقابل پر جو فتنہ اٹھنے والا تھا اس میں شیطانی طاقتوں نے اپنا پورا زور صرف کرنا تھا۔اس فتنہ کے مقابلہ کے لئے مقدر تھا کہ رسول کریم ان کی روحانی اولاد اور آپ کے شاگردوں میں سے ایک شخص کو کھڑا کیا جائے اور اس کے ذریعہ اس دجال کا جس نے ایمان کو خطرہ میں ڈال دیا ہو گا سر کچلا جائے۔ہم دیکھتے ہیں آج کوئی فتنہ اور کوئی شرارت ایسی نہیں جس کا وجود پہلے زمانوں میں پایا نہ جاتا ہو۔اگر آج دہریت پائی جاتی ہے تو یہ ہر ملک اور ہر زمانہ میں پائی جاتی تھی۔فلسفیانہ طور پر خدا تعالیٰ کے وجود کا انکار یونانیوں، ہندوستانیوں اور مصریوں میں پایا جاتا تھا اور مذہبی طور پر خدا تعالٰی کے وجود کا انکار یونانیوں، ہندوستانیوں اور مصریوں میں پایا جاتا تھا اور مذہبی طور پر خدا تعالی کے وجود کا انکار قریباً ہر ملک میں پایا جاتا تھا اور تمام ممالک میں ایسے لوگ ملتے تھے جو کہتے تھے کہ مذہبی طور پر خدا تعالی کا وجود ثابت نہیں۔اگر آج لوگ انبیاء کا انکار کرتے ہیں، وحی الی کو تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتے اور فسق و فجور میں مبتلاء رہتے ہیں تو اس قسم کے لوگ پہلے بھی ساری قوموں میں پائے جاتے تھے۔پہلے بھی ایسے لوگ تھے جو انبیاء کا انکار کرتے