خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 290 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 290

خطبات محمود ۲۹۰ جلد سوم بھی۔تحصیلدار، تحصیلدار، افسر مال، ڈپٹی کمشنر، کمشنر گورنر اور پھر گورنر جنرل ہوتا ہے اور کسی مقام ا یہ خیال نہیں کیا جاتا کہ یہ خود نگران ہے۔ان کی نگرانی کی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ بات انسانی فطرت میں داخل ہے کہ وہ دوسرے کی نگرانی بخوبی کر سکتا ہے لیکن اپنی نگرانی میں ستی کر جاتا ہے۔اور یہ امر زیر دست ثبوت ہے اس بات کا کہ انسان کو ایک ایسے نگران کی ضرورت ہے جو اپنی ذات میں کامل ہو اور کسی کے سامنے جوابدہ نہ ہو۔اگر کسی ایسی ہستی کے بغیر بھی نگرانی کا کام پوری طرح ہو سکتا تو اتنے نگران مقرر کرنے کی کوئی ضرورت نہ تھی۔ایک پر ہی اکتفاء کیا جاسکتا تھا لیکن یہ شبہ ہی رہتا کہ شاید فلاں کو مقرر کر دینے سے نگرانی ٹھیک طرح نہ ہو سکے اس لئے اس پر اور نگران مقرر کرنا چاہئے اور یہ شبہ ایسا ہی ہے جیسے کہتے ہیں ایک و ہمی نماز کے لئے نیت باندھتا تو اسے خیال ہو تا۔شاید نیت ٹھیک نہ باندھی گئی ہو۔ایک احمدی کے لئے تو یہ بات ایک مشغلہ سے زیادہ وقعت نہیں رکھتی کیونکہ اس کی نیت تو بیعت کے بعد ایسی درست ہو جاتی ہے کہ پھر اسے باندھنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔لیکن دوسرے لوگوں کو شبہ ہی رہتا ہے کہ خبر نہیں نیت ہوئی ہے یا نہیں۔ان کی نیت دماغ کے فکر سے نہیں ہوتی جیسے ہر مومن کی ہوتی ہے بلکہ ایک خاص عادت کے ماتحت ہوتی ہے اور خاص الفاظ میں وہ اسے ادا کرتے ہیں۔یعنی چار رکعت نماز فرض " پیچھے ایس امام دے" وہ شخص جب یہ کہتا تو اسے یہ خیال آتا میرے آگے اور لوگ بھی کھڑے ہیں۔شاید نیت ٹھیک نہ ہوئی ہو اس لئے وہ لوگوں کو چیرتا ہوا اگلی صف میں آجاتا۔پھر وہاں اس طرح کہتا لیکن پھر خیال آتا اور لوگ بھی کھڑے ہیں شاید اب بھی نیت ٹھیک نہ ہو۔وہ سب سے اگلی صف میں آکر کھڑا ہو جاتا وہاں انگلی سے اشارہ کر کے کہتا ” پیچھے ایس امام دے" لیکن پھر یہ خیال آتا شاید اشارہ ٹھیک نہ ہو اور انگلی ٹیڑھی ہو گئی ہو اس لئے امام کی پیٹھ کو ہاتھ لگا کر کہتا پھر خیال کرتا شاید میرا ہاتھ ٹھیک طرح سے نہ لگا ہو۔پھر زور سے مار تا حتی کہ وہاں مار کٹائی شروع ہو جاتی۔ہم لوگ اس شخص پر ہنتے اور کہتے ہیں وہ پاگل تھا۔حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ یہی جنون ہمارے ہر کام میں کار فرما نظر آتا ہے۔ہم ایک کام کے لئے ایک نگران پر نگران مقرر کرتے چلے جاتے ہیں یہاں تک کہ ہمارا واہمہ تھک کر چُور ہو جاتا ہے اور ہم اور نگرانوں کا تقرر اس لئے بند نہیں کر دیتے کہ اس کی ضرورت نہیں سمجھتے بلکہ اس لئے کہ مقرر کر نہیں سکتے اور یہ جذبہ ثبوت ہے اس بات کا کہ ایک کامل نگران کی ضرورت ہے جو اپنی ذات میں کسی اور کی