خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 289 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 289

خطبات محمود ۲۸۹ جلد سوم محاسبہ نفس بهترین نگرانی ہے (فرموده ۲ مئی ۱۹۳۰ء) ۲ مئی ۱۹۳۰ء کو حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے خواجہ علی صاحب کا نکاح قاضی امیر حسین صاحب محدث کی لڑکی مسماۃ بشری بیگم صاحبہ کے ساتھ ایک ہزار روپیہ مصر پر پڑھا۔ لے خطبہ مسنونہ کی تلاوت کے بعد فرمایا۔ انسانی فطرت ہمیشہ ہی ایک نگران کی محتاج رہتی ہے اور جب تک کہ انسان اعلیٰ درجہ کا کمال حاصل نہیں کر لیتا وہ ہمیشہ کسی دوسرے محافظ کا محتاج ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے دنیا میں جس قدر کام ہوتے ہیں ان میں ہر طبقہ کے کارکنوں کے لئے ان کے مناسب حال کچھ نگران مقرر کئے جاتے ہیں۔ مثلاً چپراسیوں کے اوپر ایک داروغہ ہوتا ہے جو ان کی نگرانی کرتا ہے لیکن داروغہ کو دیکھ کر کبھی کوئی شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ جس شخص پر اعتبار کیا گیا ہے کہ وہ بیسیوں مزدوروں کی نگرانی کرے گا اس کی نگرانی کے لئے کسی اور کی کیا ضرورت ہے بلکہ داروغوں کے بھی نگران مقرر کئے جاتے ہیں۔ ایک عمارت کی مثال لے لو۔ مزدوروں پر داروغے ہوتے ہیں ان کی نگرانی کے لئے سب اور بیٹر مقرر کر دیئے ۔ اب ان کی نگرانی کی کیا ضرورت ہے بلکہ ان کے اوپر بھی اور سیٹر مقرر کئے جاتے ہیں اور پھر یہ خیال نہیں کیا جاتا کہ اور سیر کی نگرانی کافی ہے اس سے زیادہ کی ضرورت نہیں بلکہ ان کے اوپر سب ڈویژنل افسر ہوتے ہیں اور ان کے اوپر ایگزیکٹو انجینئر اور پھر نگرانی کے لئے چیف انجینئر ہوتا ہے ۔ یہی حال دوسرے محکموں کا ہے محکمہ مال میں پٹواری ہوتے ہیں اور ان کے اوپر گرد اور اور پھر نائب