خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 280 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 280

خطبات محمود ۲۸۰ جلد سوم ذمہ داری سے اجتناب کو خوبصورت شکل دے کر دنیا کے سامنے پیش کرتے ہیں حالانکہ ان کی مثال اس شخص کی سی ہوتی ہے جو میدان جنگ سے پیٹھ دکھا کر بھاگ نکلے ۔ ہوا اور ممکن ہے کسی کو یہ خیال آئے یا خطبہ کے شائع ہونے پر کسی کے دل میں یہ خیال پیدا ہو کہ حدیث میں يَتَحَنَّثُ اللَّيَالِی لے آیا ہے ۔ اس لئے عبادت کے لئے دنیا سے علیحدہ ہونے والوں پر بزدلی یا میدان جنگ سے پیٹھ دکھانے کا الزام عائد نہیں کیا جاسکتا وگرنہ یہ اعتراض رسول کریم اللہ پر بھی عائد ہو گا لیکن یہ کہنا محض جہالت اور نادانی ہوگی۔ کسی کا دنیا سے کلیتہ علیحدہ ہو جانا اور اپنی ذمہ داریوں کو چھوڑ چھاڑ کر گوشہ تنہائی میں جا بیٹھنا اور بات ہے اور کسی کا کچھ اوقات عبادت میں اور کچھ انسانی ذمہ داریوں کی ادائیگی کے لئے صرف کرنا اور بات ہے ۔ اور رسول کریم ا یہ نہیں کہ بالکل ہی دنیا سے علیحدہ ہو گئے تھے بلکہ آپ کچھ رائیں غار حرا میں گزارتے تے تھے اور کچھ مکہ میں۔ چنانچہ جب آپ پر وحی الہی کا نزول ہوا آپ گھبرائے ہوئے گھر پہنچے تو حضرت خدیجہ رضی اللہ عنھا نے آپ کو جن الفاظ میں تسلی دی ان میں یہ نہیں کہا کہ آپ گوشہ تنہائی میں خدا تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں اس لئے وہ آپ کو ضائع نہیں کرے گا بلکہ یہ کیا - كَلَّا وَاللهِ مَا يُخْزِيكَ اللهُ أَبَدًا فَإِنَّكَ تَكْسِبُ الْمَعْدُومَ وَتَحْمِلُ الكَلَّ وَ تَقْرِى الضَّيْفَ تَقْرِی ہے کہ آپ ان اخلاق کو جاری کرتے ہیں۔ جو دنیا سے معدوم ہو چکے ہیں۔ آپ غریبوں کی خبر گیری کرتے ہیں۔ آپ مہمان نواز ہیں اس لئے اللہ تعالٰی آپ کو ۔ آپ کو ضائع نہیں کرے گا۔ یعنی ان دنوں کے کے متعلق ذکر کیا ہے جو آپ ان کے پاس گزارتے تھے۔ یہ نہیں کہا کہ آپ کسی وقت مہمان نوازی کرتے اور غریبوں کی خبر گیری کرتے تھے وغیرہ بلکہ یہ کہا کہ اب کرتے ہیں جس سے معلوم ہوا کہ آپ ایام عبادت میں بھی اپنی ذمہ داریوں کو پوری طرح ادا کرتے تھے ہاں کچھ روز کے لئے علیحدہ ہو کر چلے جاتے تھے تا خدا تعالی کی عبادت کر کے معرفت حاصل کریں اور اس سے اپنے اندر نئی طاقت اور قوت پیدا کر کے پھر خدمت خلق میں مصروف ہو جائیں۔ گویا آپ کی یہ علیحدگی ذمہ داریوں کو اٹھانے کے لئے اپنے اندر زیادہ مستعدی پیدا کرنے کے لئے تھی نہ کہ ان سے بچنے کے لئے اور اس کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی سپاہی فرصت کے اوقات میں کسرت اور ورزش کرے تارہ زیادہ قوت کے ساتھ دشمن کا مقابلہ کر سکے یہ ذمہ داری سے بچنے کے لئے نہیں بلکہ ذمہ داری کو اپنے سر لینے کے لئے ہوتی ہے۔ پس رسول کریم اللہ پر یہ اعتراض ہرگز نہیں ہو سکتا کہ آپ نے دنیا کو