خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 269 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 269

خطبات محمود ۲۶۹ جلد سوم با برکت ہوا۔ رسول کریم ال کو حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا سے محبت ان خوبیوں اور نیکیوں اور تقویٰ کی وجہ سے تھی جن کے باعث خدا تعالٰی نے انہیں اپنے رسول کے لئے چنا تھا نہ کہ ظاہری شکل وصورت کی وجہ سے ۔ ایک دفعہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا کے سر میں درد تھا رسول کریم اللہ نے ان سے از راہ محبت فرمایا اگر اسی سردرد اور میری زندگی میں تمہاری وفات ہو جاتی تو میں تمہارے لئے استغفار کرتا۔ اس کے جواب میں حضرت عائشہ نے بھی از راہ ناز نہ کہ عدم محبت کی وجہ سے کہا آپ چاہتے ہیں کہ میں مرجاؤں؟ مرد کیا ہے ایک عورت مر جائے تو اس کے لئے دوسری موجود ہوتی ہیں۔ کہ آپ نے فرمایا یہ نہیں۔ میں تو خود درد سر میں مبتلاء ہوں اور میں چاہتا ہوں کہ ابو بکر کو بلا گر وصیت کردوں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا رسول کریم اللہ سے عشق اور محبت کا پتہ لگانا ہو تو اس پر غور کرو کہ رسول کریم ﷺ کی وفات کے وقت ان کی عمر ۱۹ سال یا ۲۱ سال کی ہوگی۔ یہ عمر عورت کے لئے عین جوانی کی عمر ہوتی ہے یورپین عورت کے لئے تو شادی کرنے کی یہ عمر سمجھی جاتی ہے۔ اس وقت حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا بیوہ ہو گئیں ۔ ایک عورت جسے یہ معلوم ہو کہ اس سے ایک ایسے شخص نے شادی کی جس کی عمروفات کے قریب پہنچی ہوئی تھی اور پھر وہ محسوس کرے کہ اسے اب ساری عمر بیوگی میں گزارنی ہوگی کیونکہ رسول کریم اللہ کی بیویوں کے لئے دوسری شادی کا موقع نہ تھا، اگر اس میں چٹان کی طرح مضبوط اور پہاڑ کی طرح عظیم الشان ایمان نہ ہوتا تو اسے یہ شکوہ ہو تا کہ اس سے نہ صرف بڑی عمر میں شادی کی گئی بلکہ ایسی شادی کی گئی جس کے بعد وہ دوسری شادی نہیں کر سکتی۔ اس وجہ سے اس کے دل میں بے حد کینہ اور بغض پیدا ہو سکتا تھا۔ ہندو عورتوں کو دیکھ لو جنہیں دوسری شادی کرنے سے روکا جاتا ہے ان میں اپنے خاندان اور رشتہ داروں سے اس قدر بغض پیدا ہو جاتا ہے کہ ہزاروں اپنے گھروں سے نکل کر اور سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر مسلمانوں سے شادی کر لیتی ہیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا کو دیکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ساری عمر انہوں نے رسول کریم ﷺ کی یاد اور آپ کی محبت میں گزار دی۔ حدیث میں آتا ہے آپ کوئی اچھی چیز نہ کھاتی تھیں کہ رسول کریم ال کو یاد کر کے آپ کی آنکھوں سے آنسو نہ نکل آتے ہوں۔ ایک دفعہ میدہ کی روٹی کھانے لگیں تو آنکھوں سے آنسو بہنے شروع ہو گئے ۔ کسی نے پوچھا یہ کیا۔ آپ نے فرمایا اس لئے آنسو نکل آئے ہیں کہ خیال آیا ہے کہ رسول کریم ﷺ کے زمانہ میں اس قسم