خطبات محمود (جلد 3) — Page 266
خطبات محمود جلد سوم ضروریات کس طرح پوری کرے۔اس کے لئے آرام پانے کا ذریعہ یہی ہوتا ہے کہ وہ صاحب مکان سے ضروریات کے متعلق دریافت کرے یا اگر کوئی ہوٹل میں جاتا ہے تو ہوٹل کے ملازمین سے اگر کوئی ریل میں ہوتا ہے تو سٹیشن والوں سے دریافت کرتا ہے کیونکہ جو کسی کام کو جاری کرنے والا ہوتا ہے اس سے پوچھنے کی ضرورت ہوتی ہے کہ اس سے تعلق رکھنے والی چیزیں کہاں سے میسر آسکتی ہیں۔رَبِّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ میں یہ بتایا کہ ایسی چیزیں ہو سکتی ہیں کہ جن کا تمہیں علم نہ ہو مگر یہ نہیں ہو سکتا کہ تمہاری کسی ضرورت کی چیزیں نہ ہوں اور کوئی ضرورت پوری کرنے کا سامان نہ ہو۔پس اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِی خَلَقَكُمْ تم خدا کو کیوں ذریعہ نجات نہیں بناتے اس کی طرف جھک جاؤ اور اپنی ضرورتوں کے پورا ہونے کی اس سے التجاء کرو۔اسے معلوم ہے کہ تمہاری کوئی ضرورت کہاں سے پوری ہوگی پس تمہیں جو بھی ضرورت حقہ ہو اس کے متعلق یہ نہ سمجھو کہ اسے پورا کرنے کے سامان ہی نہیں پیدا کئے گئے۔سامان پیدا کئے گئے ہیں۔ہاں یہ ہو سکتا ہے کہ تمہیں اس کا علم نہ ہو۔اس لئے جس نے تمہیں اور تمہاری ضرورتوں کے سامان پیدا کئے ہیں اس کی طرف توجہ کرو۔پھر فرمایا جانتے ہو! تمہارے رب نے تمہیں کس طرح پیدا کیا خَلَقَكُم مِّنْ نَفْسٍ واحدة - اس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا۔یہاں اس بات پر زور دینے کی ضرورت نہ تھی کہ انسان کی ابتداء ایک انسان سے ہوئی یا دو سے کسی نے کہا ہے۔ما را چه ازیں قصہ کہ گاؤ آمد و شررفت اسی طرح ہمیں اس سے کیا کہ انسان ابتداء میں ایک سے یا دو سے یا ہزار سے پیدا ہوا۔اس سے نہ سائنس کو تعلق ہے اور نہ مذہب کو۔سائنس بتاتی ہے کہ انسان کو کس طرح پیدا کیا گیا اور مذہب بتاتا ہے کہ کس مقصد کے لئے پیدا کیا گیا۔پس یہاں جو یہ کہا گیا ہے کہ خَلَقَكُم مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَة - اس کا یہ مطلب نہیں کہ خدا تعالٰی انسان کو ایک انسان سے پیدا ہونے کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہے بلکہ اس طرف متوجہ کرنا چاہتا ہے کہ تمام انسانوں میں قدر مشترک پائی جاتی ہے کیونکہ جو چیزیں ایک سے نکلیں گی ان سب میں ایک چیز مشترک طور پر پائی جائے گی۔ایک بالی سے ہزار گیہوں کا دانہ نکلے تو ان سب کا مزہ ایک ہی ہو گا۔اسی طرح مختلف قسم کے گیہوں کے دانوں میں بڑے چھوٹے ہونے اور تاثیرات میں فرق ہوگا۔مگر پھر بھی ان میں اشتراک پایا جائے گا۔اور جب ہم کہیں گے فلاں جنس کا بیج تو اس کے یہی معنے ہوں گے کہ اس