خطبات محمود (جلد 3) — Page 262
خطبات محمود ۲۶۲ جلد سوم لیکن کچھ عرصہ بعد جب وہ چاہتا ہے کہ اسے فروخت کر کے مکان بنوالے تو جھگڑا پیدا ہو جاتا ہے۔بیوی کہتی ہے اس نے مجھے دے دیا تھا اور میں اس کی مالک ہوں۔اسے واپس لینے کا کوئی حق نہیں۔لیکن خاوند کہتا ہے میں تو اس لئے دیتا ہوں کہ یہ پہنے اور میں اس کی سجاوٹ دیکھ کر مسرت حاصل کروں۔میرا یہ مقصد ہرگز نہ تھا کہ تمام زیور اس کی ملکیت میں دے دوں۔اب دونوں ہی بچے ہیں لیکن جھگڑے کی وجہ صرف قول غیر سدید ہے۔اگر قبل از وقت معاملہ کی وضاحت ہو جاتی تو کبھی یہ نتیجہ نہ ہوتا۔پس خیال رکھنا چاہئے کہ اکثر جھگڑے ایسی باتوں سے ہی پیدا ہوتے ہیں جو اگر چہ جھوٹ تو نہیں ہوتیں لیکن یہ باطن ان میں قریب ضرور ہوتا ہے۔اس لئے اسلام یہی تعلیم دیتا ہے کہ ہمیشہ ایسی بات کہو جس میں پیچ نہ ہو اور جس کے متعلق تم نہ کہو کہ میری بات سچ ہے بلکہ یہ کہ سکو کہ میرا قول قول سدید ہے اور اس میں کوئی پیچ نہیں۔الفضل ۱۴ فروری ۱۹۳۰ء صفحه ۶) الفضل ۴ فروری ۱۹۳۰ء صفحه ۱