خطبات محمود (جلد 3) — Page 259
خطبات محمود ۲۵۹ جلد سوم تمام جھگڑے قولِ سدید کے نہ ہونے سے پیدا ہوتے ہیں فرموده ۲۹ جنوری ۱۹۳۰ء) مولوی علی محمد - مولوی فاضل (اجمیری) کا نکاح بھائی عبد الرحیم صاحب کی لڑکی عائشہ بیگم سے سات سو روپیہ مہر پر حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے ۲۹۔جنوری ۱۹۳۰ء کو پڑھانے خطبہ مسنونہ کی تلاوت کے بعد فرمایا : دنیا میں جس قدر فتنے اور جھگڑے پیدا ہوتے ہیں اگر ان پر غور کیا جائے تو ان کا اصل موجب قول سدید کا نہ ہونا ہوتا ہے۔دنیا میں اکثر لوگ تو اس مرض میں مبتلاء دیکھے گئے ہیں کہ وہ عادتاً جھوٹ بولتے ہیں۔پھر کئی ایسے ہوتے ہیں جو عاد تا تو جھوٹ نہیں بولتے لیکن ضرورت کے موقع پر اراد تا جھوٹ بول لیتے ہیں۔پھر بعض ایسے لوگ پائے جاتے ہیں جو اراد تا تو جھوٹ نہیں بولتے لیکن ان کی طبیعت اپنی کمزور ہوتی ہے کہ ڈر کے موقع پر غلط بات ان کے منہ سے نکل جاتی ہے۔یہ ڈر بھی آگے کئی قسم کا ہوتا ہے۔کئی تو ایسے ہوتے ہیں جنہیں اپنے کسی مقصد میں ناکام رہنے کی وجہ سے نقصان کا ڈر ہوتا ہے اور کئی ایسے ہوتے ہیں جن کو نقصان کا تو کوئی ڈر نہیں ہوتا لیکن فائدہ کے ہاتھ سے چلے جانا کا ڈر ہوتا ہے۔اس فائدہ کے حصول کی امید میں جھوٹ بول دیتے ہیں اور پھر کئی لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جنہیں کسی فائدہ کی امید تو نہیں ہوتی لیکن محض ہر دلعزیزی حاصل کرنے کے لئے جھوٹ بول دیتے ہیں یعنی جس نے جو بات کمی است کے سامنے جی ہاں ٹھیک ہے کہہ دیتے ہیں۔ایسے لوگ دنیا کی آواز اور اس کی رائے کو ہی اپنا خدا یقین کرتے ہیں۔اور ان میں یہ جرأت نہیں ہوتی کہ سچائی سے اپنی ذاتی رائے ظاہر