خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 258 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 258

خطبات محمود ۲۵۸ جلد سوم لیکن بعد میں ان کی صحت بہت اچھی ہو جاتی ہے اور وہ خوب مضبوط اور تنومند ہوتے ہیں۔لیکن ہمیشہ قاعدہ کلیہ کو لینا چاہئے مستثنیات کا خیال نہیں کیا جاتا۔یوں تو بعض اوقات دیکھا جاتا ہے کہ بڑے بڑے مضبوط نوجوان فورا مر جاتے ہیں اور دائم المریض بہت لمبی عمر پالیتے ہیں۔زیادہ پر ہیز کرنے والے ہمیشہ بیمار رہتے ہیں اور کوئی بھی پرہیز نہ کرنے والے تندرست رہتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام سنایا کرتے تھے ایک جنازہ آیا ان دنوں ہیضہ کی بیماری عام تھی۔جنازہ کو دیکھ کر ایک نوجوان جس کی صحت نہایت اچھی تھی کہنے لگا۔لوگ خود بد پر ہیزی کرتے اور ہیضہ کا شکار ہوتے ہیں۔میں ان دنوں صرف ایک روٹی کھاتا ہوں اسلئے ہیضہ کا کوئی ڈر نہیں لیکن خدا کی قدرت اگلے ہی دن اس کا جنازہ آگیا۔کسی نے پوچھا یہ کس کا جنازہ ہے تو کسی دل جلے نے جواب دیا ایک روٹی کھانے والا کا۔لیکن یہ مستثنیات ہیں۔قاعدہ کلیہ یہی ہے کہ پر ہیز کرنے والے بہت کم بیماریوں کا شکار ہوتے ہیں اور اچھی صحت والے طبعی عمر پاتے ہیں اور انسان جس راستہ پر چلتا ہے اس کا دوسرا قدم اسی راستہ پر اٹھتا ہے۔اسی طرح یہ بھی قاعدہ کلیہ ہے کہ اگر انسان اسلام کے مطابق شادی کرے تو عام طور پر نتیجہ اچھا ہی نکلتا ہے۔اگرچہ یہ بھی ممکن ہے کہ اسلام کے مطابق شادی کرنے کے بعد بھی کوئی خرابی پیدا ہو جائے یا وہ شادی جس کی بنیاد خراب ہو بعد میں اس کی اصلاح ہو جائے لیکن یہ ایسی مستثنیات ہیں جیسے بعض اوقات بیمار اچھے ہو جاتے ہیں اور تندرست مرجاتے ہیں۔پس مسلمان کا فرض ہے کہ وہ صحیح راستہ پر چلنے کی کوشش کرے۔شادی کے معاملہ میں اسلام نے جو چیز مقدم رکھی ہے وہ استخارہ ہے اور استخارہ اتنا کرنا چاہئے کہ کسی نہ کسی طرف دل فیصلہ کرلے اور پھر اس کے بعد بھی دعائیں کرتے رہنا چاہئے کیونکہ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ میں شامل ہو جانے کے بعد بھی الْمَغْضُوبِ اور الضالین میں مل جانے کا امکان ساتھ لگا رہتا ہے اس لئے اس وقت تک دعائیں کرتے رہنا چاہئے جب تک یوم معلوم نہ آجائے۔احادیث سے ثابت ہے کہ مومن کے لئے ایک یوم معلوم ہوتا ہے جس دن اس کی بعثت روحانی ہو جاتی ہے اور اس پر شیطان کا تصرف بالکل نہیں رہتا لیکن جب تک وہ دن نہ آجائے متواتر دعاؤں میں لگے رہنا چاہئے۔الفضل ۲۴ جنوری ۱۹۳۰ء صفحہ ۷) نے فریقین کا تعین نہیں ہو سکا ه الفاتحه : 2