خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 248 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 248

خطبات محمود ۲۴۸ جلد سوم ایک پیر صاحب سے کسی نے پوچھا آپ کس لئے پھرتے رہتے ہیں۔انہوں نے فرمایا اپنا شکار تلاش کرتا ہوں۔آخر ایک دن انہوں نے ایک نوجوان کو دیکھا اور اسے پکڑ لیا اور فرمایا بس مجھے اس کی تلاش تھی۔ان کو اللہ تعالٰی نے رویا میں بتا دیا ہو گا کہ اس کی شکل کا آدمی تیرا جوڑا ہے چنانچہ انہوں نے جب اسے دیکھا تو پکڑ لیا اور وہی پھر ان کے بعد ان کا قائم مقام ہوا۔یہی وجہ ہے کہ جو مرید خدا تعالی لاتا ہے وہ ہزار تکالیف اور دکھ اٹھانے کے باوجود اپنے پیر سے سر انحراف نہیں کرتے لیکن خود ساختہ پیروں کے مرید خدا نہیں لاتا۔ذراسی مشکل پر بھاگ جاتے ہیں۔پس جو پیر خدا کی طرف سے بنائے جاتے ہیں ان کے جوڑے خود خد الا تا ہے اور جو بندے آپ منامور بنتے ہیں ان کے مریدوں کو جب ابتلاء آتا ہے تو وہ جدا ہو جاتے ہیں۔جوڑا دنیا میں جنت قائم کرنے والی چیز ہے۔قرآن میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔لِتَسْكُنُوا اِلَيْهَا۔سے کہ ہم نے تمہیں جوڑے اس لئے بنایا ہے کہ تا تمہیں تسکین حاصل ہو۔مگر دنیا میں لوگ کہتے ہیں کہ تسلی اور اطمینان نہیں اس سے معلوم ہوا کہ انہیں صحیح جو ڑا نہیں ملا۔لیکن جہاں یہ بات ہے کہ صحیح جوڑا خدا تعالی ہی ملاتا ہے وہیں یہ بھی ہے کہ بعض لوگوں کو خدا تعالی ایک قسم کی خالقیت دے دیتا ہے۔اور جس طرح ایک بڑھتی بے جوڑ لکڑیوں کو درست کر کے ٹھیک کرلیتا ہے اسی طرح بعض لوگوں کو خدا تعالیٰ یہ طاقت اور روحانیت دیتا ہے کہ وہ اپنا جوڑا خود بنا لیتے ہیں۔اور ان کے کے ہاتھوں میں ایسے آدمی جو دراصل ان کا جوڑا نہیں ہوتے ٹھیک ہو جاتے ہیں۔رسول کریم کے پاس پہلے تو خدا تعالیٰ انتخاب کر کے ہی جوڑے بھیجتا رہا لیکن جب جوق در جوق اسلام میں داخل ہونے لگے تو خدا نے آپ کو وہ روحانی قوت عطا فرما دی کہ آپ خود ان کو درست کر کے اپنے لئے موزوں کر لیتے۔یہی وہ خلق خیر ہے کہ انبیاء اپنے جوڑے تلاش کر لیتے ہیں۔انبیاء چونکہ ہمیشہ بلندی کی طرف پرواز کرتے ہیں اس لئے وہ لوگوں میں بھی طائرانہ صفات پیدا کر کے انہیں جو ڑا بنا لیتے ہیں۔ابتداء میں تو بے شک خدا تعالی ان کے لئے جوڑے تلاش کرتا ہے لیکن اس وقت جبکہ ہجوم کا وقت ہوتا ہے وہ خود اپنے لئے جوڑے تیار کر لیتے ہیں۔بے شک بعض ایسے شقی بھی ہوتے ہیں جن پر خدا تعالی کی طرف سے مہر لگ جاتی ہے کہ وہ جو ڑا نہیں بن سکیں گے لیکن ایسے لوگ بہت کم ہوتے ہیں۔پس حقیقی امن اور راحت کا قیام خواہ وہ شادی سے ہو یا پیری مریدی اور دوستی سے اس بات پر منحصر ہے کہ انسان کو اپنا جو ڑا مل جائے اور اگر یہ نہ ملے تو فساد ہی رہتا ہے۔ایسے بادشاہ