خطبات محمود (جلد 3) — Page 235
خطبات محمود ۲۳۵ جلد سوم کا آج ہی میرے نام خط آیا ہے جس کی وہی طرز تحریر ہے جو اس کے مضامین کی ہے۔ وہی جوش، وہی اظہار مطلب کا طریق ہے۔ خدا کے فضل سے ہماری جماعت میں ایسے سامان ہیں کہ جماعت میں اپنے عورتیں ترقی کی طرف مائل ہو رہی ہیں اور یہ اس ترقی کا نتیجہ ہے کہ اپنے آپ کو مذہب کا عمود سمجھنے لگ گئی ہیں اگر یہ کو جاری رہی تو ہماری جماعت کی عورتیں بہت جلد ترقی کرلیں گی۔ مگر ضرورت یہ ہے کہ مردان کی مدد کریں۔ ہر باپ کا فرض ہے کہ وہ اپنی کہ وہ اپنی بیٹی کو ترقی کرنے میں مدد ہر خاوند کا کا فرض ہے کہ اپنی بیوی کی ترقی کا انتظام کرے ۔ ہر بھائی کا فرض ہے کہ اپنی بہن کو امداد دے ۔ حتی کہ ہر بیٹے کا فرض ہے کہ اپنی ماں کو اوپر اٹھائے اگر اس طرز پر ساری جماعت کے لوگ عورتوں کو ابدار دینے لگ جائیں تو بہت جلد ترقی ہو سکتی ہے۔ دے۔ ہر i کار اللہ تعالٰی نے ان آیات میں جو نکاح کے موقع پر پڑھی جاتی ہیں ترقی کا گر بتایا ہے بہت انسان جب کام کرنے لگتے ہیں تو باوجود اپنی طرف سے پوری کوشش کرنے کے پھر بھی وہ بعض اوقات اسے درست طور پر نہ کر سکنے میں مجبور ہوتے ہیں۔ اگر ہم سچے طور پر اس کے متعلق غور کریں اور محلی بالطبع ہو کر اس کے متعلق سوچیں تو صحیح نتیجہ پر پہنچ جاتے ہیں۔ جیسے ایک مجسٹریٹ جو فریقین میں سے کسی سے تعلق نہیں رکھتا اس کا فیصلہ بسا اوقات صحیح ہوتا ہے۔ مسلمان قاضیوں میں سے ایک کے متعلق لکھا ہے کہ جب بادشاہ نے انہیں قاضی مقرر کیا تو ان کے دوست مبارک دینے آئے مگر انہوں نے دیکھا کہ لہ وہ رو رہے ہیں۔ پوچھا یہ کون سا رونے کا مقام ہے۔ تو انہوں نے کہا کہ اس سے بڑھ کر رونے کا اور کیا مقام ہے کہ میرے پاس ایک مدعی آئے گا جو کہے گا مجھے فلاں سے یہ لینا ہے مگر مجھے معلوم نہیں ہو گا کہ اس نے لینا ہے یا نہیں۔ اسی طرح مدعا علیہ آئے گا اور کہے گا مجھے کچھ نہیں دیتا۔ مجھے پتہ نہ ہو گا کہ اس نے کچھ دیتا ہے یا نہیں باوجود اس کے میں ان کا فیصلہ کروں گا۔ نہ معلوم کس کا حق ماروں گا۔ یہ ان کا رنگ تھا مگر جیسا کہ تجربہ بتاتا ہے اکثر اوقات مجسٹریٹ صحیح نتیجہ پر پہنچ جاتا ہے۔ وجہ یہ کہ نہ اسے لینا ہوتا ہے نہ دینا۔ پس اگر ہم محلی بالطبع ہو کر دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ بعض اوقات کوئی شخص جو اپنی مجبوری کا اظہار کرتا ہے وہ درست ہوتا اور کئی موقعوں پر فی الواقع مجبور ہوتا ہے۔ کئی دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ کسی کو کوئی نامناسب بات چھوڑنے کے لئے کہا جائے تو وہ کہتا ہے کہ کہاں کروں چھٹتی نہیں اسی طرح ایک شخص کسی بات کو خود چھوڑنا چاہتا ہے لیکن جب موقع آتا ہے تو وہ کر گزرتا ہے۔ کئی جرائم ایسے ہوتے ہیں کہ ان کے ارتکاب سے بچنا انسان کے اختیار میں