خطبات محمود (جلد 3) — Page 9
جلد سوم خطبات محمد نہیں رکھتا جب تک وہ خدمت دین مجھ سے لینی چاہے اس کی مرضی میں اس کے دین کی خدمت کے لئے کمربستہ ہوں۔ورنہ اس وقت کے لئے تو میں ہر وقت حاضر ہوں اس وقت پر مجھے کوئی اعتراض نہیں۔جب تک آنحضرت ﷺ کی اغراض و آرزوؤں کے لئے، مسیح۔موعود کے لئے ، میرے لئے مفید ہے مجھ سے کچھ کام لے۔یا اپنے پاس بلا لے۔وہ جو کچھ کرے گا حکمت پر مبنی ہو گا۔ہاں میں آئندہ کبھی پسند نہیں کروں گا کہ ہماری جماعت کے لوگ صدق و سداد پر کار بند نہ ہوں جو لوگ ایسا کریں گے میں انہیں سزا دوں گا۔میرا تعلق ان سے کچھ نہیں رہے گا۔یہ شادی ان شکایتوں سے مبرا ہے اور یہی وجہ ہے کہ باوجود بیماری اور حلق میں تکلیف ہونے کے اور سردرد کے اور بوجہ ایک زخم کے بیٹھ نہ سکنے کے میں نے خود یہ نکاح پڑھایا ہے کیونکہ میرا دل خوش تھا اور یہ رشتہ مجھے پسند تھا۔ایک طرف نے تو کھلا کھلا سداد سے کام لیا دوسری طرف سے بھی میں اُنس رکھتا ہوں اس لئے اپنے نفس پر بوجھ ڈال کر تکلیف اٹھا کے میں اس میں شامل ہوا ہوں۔ایک دوسرے نکاح کی بابت بھی مجھے کہا گیا ہے مگر چونکہ اس کی بناء سداد پر نہیں اس لئے میں اس نکاح میں شامل ہونا اور اس نکاح میں بیٹھنا پسند نہیں کرتا۔کسی کو کہہ دوں کہ یہ نکاح پڑھا دے یہ بھی پسند نہیں کرتا۔ہاں اس نکاح سے جو میں پڑھنا چاہتا ہوں اس میں میں شامل ہوں کیونکہ میری طبیعت خوش ہے دوسری طرف سے بھی خوش ہوں۔لیکن چاہتا ہوں وہ قادیان میں آکر کام کریں، محنت اور ایمانداری، نیکی اور تقویٰ کے ساتھ کام کریں گے تو مجھے اور بھی محبوب ہو جائیں گے۔اس وقت کام کرنے والوں کی ضرورت ہے مگر ایسے کام کرنے والوں کے لئے جو اللہ کے لئے اخلاص سے کام کریں۔بی اے، ایم اے ہونا کوئی فخر کی بات نہیں۔بہت سے بی اے، ایم اے، ایل ایل بی ہیں ساٹھ ستر روپے کی ملازمت نہیں ملتی۔خود مجھے کئی بی اے، ایم اے، ایل ایل بی کے خطوط آتے ہیں جن میں وہ نہایت لجاجت سے لکھتے ہیں کہ ہمارے گزارہ کا بندوبست ہو جائے دعا کیجئے۔دیکھو ایک ایم اے تھا اس نے ایک وقت نیک نیتی سے کام کیا مسیح کے دامن سے وابستہ ہونے میں نجات دیکھی خدا نے اسے یہ اجر دیا کہ دنیا بھر میں اسے مشہور کر دیا۔ایک عظیم الشان اور آزاد قوم پر اسے حکومت وی حتی کہ ایک وقت اس نے اس قوم کے قائم مقاموں سے کہا میں جوتیوں سے تم سے چندہ وصول کروں گا۔؟ اور سب نے خاموشی سے ثنا