خطبات محمود (جلد 3) — Page 7
خطبات محمود جلد سوم لڑکیوں کی شادی میری معرفت کرایا کرو۔جماعت تو بڑھتی جاتی ہے اور انشاء اللہ ساری دنیا میں پھیلے گی۔اب اگر خلفاء کا یہ بھی فرض ہو کہ تمام شادیاں ان ہی کی معرفت ہوں تو یہ تو بڑا بوجھ ہے۔پس اگر بغیر میری اطلاع کے کوئی شادی کرے تو اس سے ایمان میں نقص نہیں آجاتا لیکن اگر ایک شخص کہے کہ یہ معاملہ آپ کے سپرد ہے اور پھر جب کہا جائے کہ یوں کر دو اور پھر اس سے پہلو تہی کرے تو یہ نا پسندیدہ امر ہے۔ایسی شادی میں عضو کر کے اگر ہم شامل بھی ہو جائیں تو با برکت کبھی نہیں ہوگی ضرور فساد ہی ہو گا۔یہ مت سمجھو کہ فورا فساد ہو گیا۔ممکن ہے میاں بیوی صلح سے گزاریں مگر اولاد گندی پیدا ہو۔غرض نتیجہ کبھی نہ کبھی ضرور گندہ نکلے گا۔اگر ان کی زندگیوں میں نہیں تو نسلوں میں، پوتوں میں، پڑپوتوں میں کہیں نہ کہیں یہ گند نکلے گا۔جس کی بنیاد پیج کے طور پر ابھی پڑ چکی ہے اور جس نکاح کی بنیاد سداد پر ہوگی اس کا نتیجہ کبھی نہ کبھی اچھا ضرور نکلے گا۔دیکھو بعض لوگ شریر اور بدکار ہیں مگر ان کی پشتوں سے نیک لوگ نکلتے ہیں جیسے ابو جہل اور اس کا بیٹا عکرمہ۔باپ تو وہ کہ کوئی مسلمان پسند نہیں کرے گا کہ اپنا نام ابو جہل رکھے اور بیٹا وہ کہ بڑے بڑے اولیاء کو ایسا ہونے کی ہوس ہے۔غرض نیک بیج نیک ثمرہ لائے گا اور بد پیج بدیاں پیدا کرنے گا میں نے اب عمد کیا ہے اور میں چاہتا ہوں کہ اس جھوٹ کو مٹایا جائے کیونکہ اگر ایمان کے تمام پہلو سرسبز نہ ہوں تو ایمان کامل کے بارے میں خطرہ ہے جو درخت آدھا سوکھا ہو گا باقی آدھا بھی سوکھ جانے کا خطرہ ہے۔میں دیکھتا ہوں کہ جماعت میں ابھی بعض نقص ہیں وقت کی پابندی نہیں اوقات سے بہترین کام لینے کا مادہ کم ہے جرات نہیں۔دو آدمیوں کو کسی تحقیقات کے لئے لگاؤ یوں تو بہت نیک ہیں متقی ہیں مخلص ہیں مگر ان کے فیصلہ کے بارے میں بعض اوقات مجھے شرح صدر نہیں ہوتا۔دیکھو اب تو سلسلہ بڑھے گا۔آپس کے جھگڑوں کے علاوہ ممکن ہے خلفاء کے ساتھ بھی معاملات دنیا میں کسی کا جھگڑا ہو تو جو شخص حج کے طور پر مقرر کیا جائے اسے چاہئے کہ حق حق فیصلہ کرے اور ہرگز خیال نہ کرے کہ ایک طرف خلیفہ ہے۔دیکھو حج تو اس وقت خدا کا قائم مقام ہے۔ایک نبی بھی بعض اوقات دنیاوی معاملہ میں کسی کو کہہ دیتا ہے کہ میرا اور اس کا اس معاملہ میں فیصلہ کرد۔تو اب حج کے لئے ہرگز جائز نہیں کہ وہ یہ خیال کرے کہ نبی کو فائدہ والی بات پہنچے۔جج صرف یہ مد نظر رکھے کہ حق کیا ہے پس وہ فیصلہ سنا دے۔بعض دفعہ بعض لوگ منہ دیکھ کر ڈر جاتے ہیں۔یوں بڑا تقویٰ رکھتے ہیں مگر ایمان کی کئی شاخیں ہیں۔ایک نہ ایک