خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 193 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 193

خطبات محمود اس کا احسان ہو گا۔ ۱۹۳ جلد سوم حضرت صاحب کوئی نیا دین نہ لائے تھے اور نہ کوئی جدید مذہب لے کر آئے تھے۔ مگر اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ آج کل کے لوگ اسلام جیسے مذہب کو ایسی بھدی شکل میں پیش کرتے ہیں کہ کوئی عظمند انسان اس کو قبول نہیں کر سکتا۔ اگر ان کی تفسیر و تشریح کی دیکھا جائے ۔ تو کہا جاسکتا ہے کہ آپ نیا دین، نئی شریعت اور نیا قرآن لائے تھے ۔ اگر حقیقت کو مد نظر رکھا جائے تو حضرت صاحب کوئی نئی چیز لے کر نہیں آئے تھے۔ آپ نے وہی کچھ پیش کیا جو رسول کریم ا نے دنیا کو دکھایا ۔ پس جس کام کے لئے وہ تشریف لائے تھے اس کی اشاعت کرنا ہمارا فرض ہے اور میں امید کرتا ہوں کہ عزیز رشید احمد بھی اپنی زندگی اس کام کے لئے صرف کریں گے۔ جب تک ہم اپنی عمروں کو خرچ نہ کریں گے ہم غالب نہ آئیں گے۔ اس وقت دنیا میں کسی قوم کے مخالف اتنے نہیں جتنے ہمارے مخالف ہیں۔ ہم زبان کی طرح دانتوں کے درمیان ہیں۔ پھر زبان تو بتیس دانتوں کے درمیان ہوتی ہے مگر ہم سینکڑوں دانتوں کے درمیان ہیں اس لئے حضرت صاحب نے فرمایا : کربلا نیست سیر ہر آنم مد حسین است در گریبانم جب تک ہر فرد ہم میں اس کربلا میں ساری عمر کی بھوک پیاس برداشت نہ کرے گا تب تک ہم کامیاب نہیں ہو سکتے۔ اور یہی ہمارا مقصد وحید ہونا چاہئے۔ بے شک دنیا کے کام کرو مگر تمام کاموں میں ایک ہی کام پر نظر ہو اور وہ یہ کہ ہم نے دین اسلام کو دنیا پر غالب کرنا ہے ۔ جیسے خدا تعالی قرآن شریف میں نبی کریم ﷺ کو مخاطب کر کے فرماتا ہے۔ وَ مِنْ حَيْثُ خَرَجْتَ فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ کو اے رسول جس مقابلہ کے لئے نکلو خواہ وہ بدر کا ہو یا احمد کا یا خیبر کا کوئی مقابلہ ہو تو ہر مقابلہ میں مسجد حرام کی فتح کا خیال رکھو کہ وہ فتح ہو جائے ۔ اسی طرح ہم کوئی کام کریں ہمارا مقصد وحید ہی ہونا چاہئے کہ ہم نے اسلام کو تمام دنیا میں پھیلانا ہے، ہماری اولاد، ہماری بیویاں، ہمارے بچے، ہمار ا مال، ہماری آبرو میں تمام قربان ہو جائیں تو کوئی حرج نہیں۔ خدا تعالی ہمیں اس کی توفیق دے ۔ آمین۔ اس وقت عزیز رشید احمد کے نکاح کا اعلان کرتا ہوں جو کہ پانچ ہزار روپیہ مہر پر عزیزہ امته السلام سے جو کہ عزیزم میاں بشیر احمد صاحب کی بڑی لڑکی ہے قرار پایا ہے لڑکی کی طرف سے میں منظور کرتا ہوں۔