خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 192 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 192

خطبات محمود ۱۹۲ جلد سوم کامیاب نہ ہو گے۔ہمارا خاندان ایسا ہے جو عزت والا ہے۔مگر میں کہتا ہوں کہ جب ہم ایک آدم کی اولاد ہیں تو سوائے دینی حالت میں گرا ہونے کے اور کوئی ایسی چیز نہیں ہے جو کسی کو اونی قرار دے۔پس ہم امید کرتے ہیں کہ عزیز رشید احمد اپنی زندگی محض دین کے لئے وقف کریں گے۔وہ یاد رکھیں کہ وہ ایک ایسے انسان کے پوتے ہیں جو دنیا میں ایک عظیم الشان تغیر کرنے آیا تھا وہ تغیر شروع ہو چکا ہے اور ایک دن ہو کر رہے گا۔بڑے بڑے بادشاہ بڑی بڑی قومیں اور بڑی بڑی حکومتیں اس کے آگے روک نہیں ہو سکتیں۔علماء امراء اس تغیر کو روک نہیں سکتے وہ تغییر ہو گا اور ضرور ہو کر رہے گا۔مگر کیا ہی بد قسمتی ہوگی اگر غیر آکر اس میں محمد ہوں اور اس کام میں حصہ لیں مگر ہم محروم رہیں۔اس کی ایسی ہی مثال ہے کہ ایک شخص چشمے کے کنارے بیٹھا ہوا ہو دوسرے لوگ تو اس سے ملکے اور مشکیں بھر کر لے جائیں اور سیراب ہوں۔وہاں سے نالیاں نکال کر لے جائیں اور اپنے کھیتوں کو سیراب کرلیں مگر وہ شخص اپنے حلق کو بھی تر نہ کرے۔عزیز رشید احمد کو سمجھنا چاہئے کہ ان کے فرائض بہت ہیں ان کو زید و بکر کا نمونہ دیکھنے کی ضرورت نہیں کیونکہ ان کے گھر میں نمونہ موجود ہے وہ یاد رکھیں کہ وہ مسیح موعود کی اولاد سے ہیں اور مسیح موعود کا عظیم الشان اسوہ حسنہ ان کے لئے موجود ہے اس لئے نہیں کہ حضرت مسیح موعود ان کے دادا ہیں بلکہ اس لئے کہ خدا تعالٰی نے آپ کو دنیا کے لئے اسوہ حسنہ قرار دیا ہے۔میں علمی طور پر بتلاتا ہوں کہ میں نے حضرت صاحب کو والد ہونے کی وجہ سے نہیں مانا تھا۔بلکہ جب میں گیارہ سال کے قریب تھا تو میں نے مصمم ارادہ کیا تھا کہ اگر میری تحقیقات میں نعوذ باللہ جھوٹے نکلے تو میں گھر سے نکل جاؤں گا مگر میں نے ان کی صداقت کو سمجھا اور میرا ایمان بڑھتا گیا حتی کہ جب آپ فوت ہوئے تو میرا یقین اور بھی بڑھ گیا اور میں نے سمجھا کہ اب کام بڑھ گیا ہے میری عمر اس وقت انیس برس کی تھی۔میں نے اس وقت آپ کی لاش کے پاس کھڑے ہو کر عہد کیا تھا کہ اے خدا میں تجھے گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ اگر ساری دنیا بھی مرند ہو جائے تو بھی میں آپ کی تحریک کو جاری رکھوں گا۔یہ میرے اس وقت کے جذبات تھے جب میں نے آپ کے سرہانے کھڑے ہو کر یہ عہد کیا تھا۔میں نے یہ عہد آج تک بھلایا نہیں اور میں امید کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ مجھے بھولنے نہیں دے گا اور عملاً اس کے لئے جو توفیق دے گا وہ