خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 147 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 147

۱۴۷ ۴۵ زندگی کا فیشن (فرموده ۲۵ - اپریل ۱۹۲۲ء) له خطبہ مسنونہ کی تلاوت کے بعد حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے فرمایا : انسانی نفس اپنے گردو پیش کی چیزوں سے متاثر ہو کر ایسے طریق اختیار کرتا رہتا ہے جن پر چلنے سے اصل راستہ سے بھٹک جاتا ہے جیسے کوئی شخص کسی ضروری کام کے لئے گھر سے نکلتا ہے مگر کوئی دوسرا اس کو راستہ میں برکاتا ہے اور وہ اس کے پیچھے چل پڑتا ہے اور اپنے اصل مقصد سے محروم ہو جاتا ہے اسی طرح بعض لوگ زندگی کے راستہ سے دور ہو جاتے ہیں۔حضرت صاحب کا الہام ہے " زندگی کے فیشن سے دور جا پڑے" سے فیشن کے معنے ہیں۔طریق اور زندگی بسر کرنے کا راستہ۔ظاہر ہے کہ راستہ مقرر کرنے والے خاص لوگ ہوتے ہیں۔یورپ کے مرد اور ان کی عورتیں فیشن کی دلدادہ ہوتی ہیں۔خصوصا پیرس فیشن پرستی کا مرکز ہے۔ایک اخبار میں میں نے پڑھا تھا کہ ایک عورت کسی دکان پر گئی اور دکاندار سے کہا کہ مجھے تازہ ترین فیشن کی ٹوپی درکار ہے۔وہاں ٹوپیوں پر ہی زیادہ فیشن کا اثر پڑتا ہے۔عورت نے ٹوپی خریدی اور پہن کر باہر نکلی۔جونہی کہ باہر نکلی کچھ عورتیں اس نے دیکھیں جن میں سے ایک عورت وہ بھی تھی جو فیشن اختیار کراتی ہیں اور نمونہ اور سند کے طور پر مانی جاتی ہیں۔اس عورت نے فورا ٹوپی اپنے سر سے اتار لی اور دوڑ کر دکان میں گھس گئی اور دکاندار سے کہا تو نے مجھے سخت ذلیل کیا اگر وہ عورت مجھے دیکھ لیتی تو کیا کہتی۔- کو فیشن کے معنے عام طریق کے کئے جاتے ہیں مگر اصل بات یہ ہے کہ چند آدمیوں کے