خطبات محمود (جلد 3) — Page 1
خطبات محمود جلد سوم تقومی اور نیک اولاد کے حصول کے لئے نکاح کرو فرموده ۲۹ - جنوری ۱۹۱۵ء) ۲۹ جنوری ۱۹۱۵ء بعد از نماز عصر حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے پیر اکبر علی صاحب وکیل فیروز پور کا نکاح ممتاز بیگم دختر مرزا ناصر علی صاحب وکیل سے دس ہزار روپیہ مہر پر پڑھا۔ ممتاز بیگا خطبہ مسنونہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :- نکاح اس نیت سے کرو کہ تقویٰ حاصل کرو ۔ اولاد مسلم اور اللہ کے جلال کو ظاہر کرنے والی ہو اور یہ موقوف ہے اس پر کہ بچوں کی تربیت عمدہ ہو۔ اس کا انحصار بیویوں کی دینی تعلیم پر ہے۔ پس ہر مرد نہ صرف خود قرآن مجید با ترجمہ پڑھے، دین سیکھے، بلکہ اپنی بیوی کو بھی سکھائے"۔ حضور نے جو خطبہ نکاح پڑھا تھا اس میں یہ بھی فرمایا کہ : الفضل ۳۱- جنوری ۱۹۱۵ء صفحہ ۱) لوگ مهریا تو ۳۲ روپے مقرر کرتے ہیں اور اسے مہر شرعی کہا جاتا ہے یا تین من سونا اور اتنے من چاندی اور اتنے گاؤں یہ دونوں فضول باتیں ہیں مہر طرفین کی حیثیت کے مطابق ہونا چاہئے"۔ الفضل ۲- فروری ۱۹۱۵ء صفحه ۱)