خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 119 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 119

خطبات محمود 119 گندم از گندم بروید جو ز جو جلد سوم تو یہ گر ہیں جو اولاد اور پھر ٹھیک اولاد پیدا کرنے کے اللہ تعالیٰ نے بنائے ہیں۔اس کی ایک ہی مثال نہیں اور بھی بہت سی مثالیں موجود ہیں کہ خدا تعالٰی نے ایک شخص کی اولاد کو بے شمار بڑھایا ہے۔مثلاً حضرت ابراہیم کو ہی دیکھو ان کے متعلق فرمایا کہ تجھے اس قدر اولاد دوں گا جو کہ آسمان کے ستاروں کی طرح بے شمار ہو گی۔اب دیکھ لو دنیا میں ابراہیم کی نسل مختلف ملکوں میں مختلف قوموں میں کس قدر پھیلی ہوئی ہے۔اسی طرح سادات کو دیکھئے جو آنحضرت ﷺ کی بیٹی فاطمہ اور حضرت علی کی اولاد ہیں کون سا ملک ہے جہاں سادات نہیں۔پھر ایک آدھ شخص نہیں بڑی بڑی آبادیاں سادات کی ہیں جس سے بعض لوگ خیال کیا کرتے ہیں کہ بہت سے مصنوعی سید بن گئے۔حالانکہ یہاں بھی یہی بات ہے کہ خدا نے اس نسل کو بڑھانا تھا اور بڑھایا۔بہت سے لوگ ہوتے ہیں جو بڑے مضبوط ہوتے ہیں مگر ان کی کوئی نسل نہیں ہوتی مگر خدا جن کے متعلق چاہتا ہے وہ پھیل جاتے ہیں۔حضرت خلیفہ اول فرمایا کرتے تھے کہ سادات کے ایک سارے خاندان کو سکھوں نے مردا ڈالا۔جس سے محض ایک عورت جو مالدار تھی بچی۔اس نے ارادہ کیا کہ خدا چاہے تو اس سے یہ خاندان دوبارہ چلے۔اس نے پتہ لگانا شروع کیا کہ اس کے خاندان کی نسل کا کوئی مرد ہو۔آخر پتہ لگا کہ ہندوستان میں اس نسل کا ایک شخص ہے جو بالکل اپاہچ ہے اس کے ہاتھ پیر تک ضائع شدہ ہیں۔وہ عورت وہاں گئی اس سے نکاح کیا۔حضرت خلیفہ اول فرماتے تھے کہ اب اس نسل سے ایک بڑا خاندان موجود ہے تو دیکھو خدا نے اس کے لئے کیا سامان کیا۔ایک اپاہج شخص سے شادی کرنے کے لئے خود ایک عورت اور مالدار عورت گئی۔خدا نے اس خاندان کو رکھنا تھا اس لئے یہ تعلق ہوا اور ان کی یہ خواہش پوری ہوئی۔پس جو شخص اس تعلق میں تو کل کرے گا اور خدا کے فضل پر امید رکھے گا اس کو پھل ملیں گے جو میٹھے بھی ہوں گے۔نے فریقین کا تعین نہیں ہو سکا۔ته النساء : ٢ الفضل ۶ - فروری ۱۹۲۲ء صفحہ ۸۴۷)