خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 118 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 118

خطبات محمود HA منشاء الہی اس کے مخالف نہ ہو ان آیات میں سے ایک میں جو میں نے پڑھی ہیں توجہ دلائی گئی فرمایا - يَايُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيرًا وَنِسَاءً وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالأَرْحَامَ۔ہے تم شادی کرتے ہو اس لئے کہ تمہارا نام قائم رہے تمہارے بچہ پیدا ہو اور اس سے تمہاری نسل چلے مگر تم میں سے کسی کو بھی یہ اختیار نہیں کہ اپنی خواہش میں کامیاب ہو اور پھر یہ خواہش ہوتی ہے کہ نرینہ اولاد ہو اس میں بھی تمہیں کامیاب ہونے کا اختیار نہیں لیکن تمہارے سامنے ایک جگہ ایک اور سرکار ہے جس کے اختیار میں ان خواہشوں کا پورا کرنا۔وہ کون ہے۔رَبِّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُم وہ تمہارا رب ہے جس نے تم کو پیدا کیا تم اس کی طرف دیکھو کہ اس نے ایک انسان سے کس قدر اس کی نسل کو چلایا ہے۔اس کی اولاد ایک دو نہیں ۲۵ ہزار میل کی دنیا کو اس ایک شخص کی اولاد سے بھر دیا۔اس کی نسل کی یہاں تک ترقی ہوئی کہ جس سے اب یہ حالت ہو گئی ہے کہ لوگ کہتے ہیں کہ دنیا اس قدر بڑھ گئی ہے کہ ہم کھائیں گے کیا۔پس یہ اولاد کی خواہش طبعی خواہش ہے مگر انسان اس میں کامیاب ہونے کا کوئی رستہ نہیں رکھتا سوائے اس کے کہ اس خدا کا تقویٰ اختیار کرے جس نے اکیلے آدم سے اس قدر نسل کو بڑھایا اور پھیلایا کیونکہ تم تجربہ کر چکے ہو کہ اس خدا میں یہ قوت ہے کہ وہ جس کی نسل کو بڑھانا چاہے بڑھا سکتا ہے۔اگر اس کو چھوڑ دیا جائے تو کوئی دنیاوی سامان ایسا نہیں جس سے یہ خواہش پوری ہو۔اس کے ساتھ دوسری خواہش ہوتی ہے جو اولاد کے پیدا ہونے کے بعد ہوتی ہے کہ جو اولاد ہو نیک اور متقی ہو۔دین کی دشمن اور ماں باپ کی ذلت اور رسوائی اور مصیبت کا موجب نہ ہو کیونکہ اگر بیٹا دین کا دشمن ہوا تب خرابی ہے۔اگر چور، ڈاکو ، قاتل یا کسی اور شرارت میں بتلاء ہوا جب پولیس اس کو پکڑے گی تو ماں باپ کا نام بھی ساتھ بدنام ہو گا اس لیئے فرمایا۔وَاتَّقُوا اللهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالأَرْحَامَ - خدا کا تقویٰ اختیار کرو۔کیونکہ تم جو تعلق پیدا کرنے لگے ہو اور اس کا جو نتیجہ ہو گا وہ اولاد ہوگی اگر وہ خراب ہوا تو تمہارا بڑھاپا خراب کرے گا اور خود خراب ہو گا۔اس لئے فرمایا کہ جب تم تقویٰ اختیار کرو گے تو تقویٰ اللہ تقویٰ اللہ ہی پیدا ہو گا کیونکہ مشہور ہے۔۔