خطبات محمود (جلد 3) — Page 117
خطبات محمود کرتے ہیں۔ 114 جلد سوم یہ خواہش بتاتی ہے کہ انسان اور نباتات اور حیوانات کی ترقی کا مدار یہی خواہش ہے اور یہ خواہش خدا نے سب مخلوق میں ودیعت کی ہے اور یہ اہم طبعی باتوں میں سے ہے کیونکہ جتنی کوئی خواہش عام ہوتی ہے اتنی ہی وہ اہم ہوتی ہے۔ اس خواہش کا تعلق انسان اور حیوان سے ہی نہیں نباتات سے بھی ہے اور جمادات کے متعلق ہمیں معلوم نہیں۔ پس باوجود اس کے کہ یہ خواہش طبعی ہے اور اس قدر عام ہے اس کے پورا کرنے کا انسان کے پاس کوئی ذریعہ نہیں۔ سینکڑوں مالدار ہوتے ہیں وہ بے شمار روپیہ علاج پر صرف کرتے ہیں مگر ان کی یہ خواہش پوری نہیں ہوتی۔ اور بعض ایسے ہیں کہ کروڑوں روپیہ دے دیں کہ ان کی خواہش پوری ہو مگر نہیں ہوتی۔ امریکہ کے ایک شخص کا اکلوتا بیٹا مرض سل میں مر گیا۔ اس نے ڈھائی کروڑ روپیہ وقف کیا کہ مرض سل کا علاج نکالا جائے ۔ دیکھو اس شخص کو بیٹے کے مرنے کا اتنا صدمہ تھا کہ اس نے اس کے لئے ڈھائی کروڑ روپیہ دوسروں کو اسی صدمہ سے بچانے کے لئے صرف کیا۔ اگر اس شخص کو یقین ہوتا کہ ڈھائی کروڑ یا اس سے زیادہ صرف کرنے پر اس کو اولاد حاصل ہو جائے گی تو وہ خرچ کرتا۔ مگر دیکھو یورپ و امریکہ کے موجد باوجود اپنی علمی ترقیوں کے اس شخص کو اولاد دینے کے ناقابل تھے۔ اس خواہش سے اتر کر ایک اور خواہش حیوانوں میں تو معلوم نہیں انسانوں میں ہوتی ہے کہ نرینہ اولاد پیدا ہو۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ خواہش انسانوں میں ہی ہونی چاہئے کیونکہ انسان مدنی الطبع ہے اس خواہش کے پورا کرنے کے لئے بھی لوگ بڑے بڑے جتن کرتے ہیں۔ تعویز، ٹونے ٹوٹکے کرتے ہیں اور اس طرح ہزاروں روپیہ خرچ کرتے ہیں اور اس کے متعلق قدیم زمانہ سے کتابیں لکھی جارہی ہیں۔ ہندوؤں کے ہاں کوک شاستر وغیرہ جن میں بعض تو گندی کتابیں ہیں اور بعض اصل اسی موضوع پر ہیں کہ لڑکا لڑکی کس طرح پیدا کئے جاتے ہیں اور ان کتب کو ایک حد تک مذہب میں داخل کیا گیا ہے۔ لیکن اس بات پر آج تک اقتدار حاصل نہیں ہوا۔ یہ سب قیاسی باتیں ہیں اور قیاسی باتیں قابل اعتماد نہیں ہوتیں ۔ اولاد حسب نشاء پیدا کرنا تو بڑی بات ہے جب بچہ ماں کے پیٹ میں ہو اس وقت تک صحیح طور پر شناخت نہیں کیا جاسکتا ہے کہ لڑکا ہے یا لڑکی۔ غرض یہ انسانی خواہش ہے کہ یہ پوری ہو۔ اس کے پورا کرنے کی طرف بشر طیکہ حکمت اور